ایران نے یورپی ممالک کی افواج کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اپنے ایک بیان میں علی لاریجانی نے کہا کہ یورپی یونین ایران کے داخلی قانون سے یقیناً آگاہ ہے اور وہ تمام ممالک جنہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے خلاف یورپی یونین کی حالیہ قرارداد میں حصہ لیا، انکی افواج کو دہشتگرد تنظیمیں تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے یورپی ممالک کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیدیا۔ پاسداران انقلاب کیخلاف یورپی اقدام پر ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کا ردعمل سامنے آگیا۔ علی لاریجانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین ایران کے داخلی قانون سے یقیناً آگاہ ہے اور وہ تمام ممالک جنہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے خلاف یورپی یونین کی حالیہ قرارداد میں حصہ لیا، ان کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کیا جاتا ہے۔ علی لاریجانی نے کہا کہ اس اقدام کے نتائج کی ذمہ داری انہی یورپی ممالک پر عائد ہوگی، جنہوں نے اس قسم کے فیصلے کیے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ نے پاسداران انقلاب سے متعلق قانون اپریل2019ء میں منظور کیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی قانون پاسدارن کو بلیک لسٹ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ ایک روز قبل یورپی یونین نے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ایران کی مسلح افواج نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے غیر منطقی، غیر ذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ پاسداران انقلاب ایران کی مسلح افواج کا ایک اہم حصہ ہے، جسے 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایرانی فوج کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اور براہ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاسداران انقلاب کی افواج کو دہشت یورپی یونین کو دہشت گرد
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔