سونے کی قیمتوں میں آج پھر بڑی کمی، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
کاروباری ہفتے کے آخری روز قیمتوں میں اس اچانک کمی نے صرافہ بازاروں میں خریداروں اور تاجروں دونوں کو چونکا دیا کیوں کہ چند روز قبل ہی سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئی تھیں۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ہفتے کے روز سونے کی قیمت میں بھاری کمی دیکھنے میں آئی، جہاں فی اونس سونا 255 ڈالر سستا ہو کر نئی کم سطح پر آ گیا۔ عالمی سطح پر اس گراوٹ کے فوری اثرات پاکستان کی مقامی مارکیٹوں میں بھی نمایاں طور پر دیکھے گئے، جہاں سونے کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ صرافہ بازاروں میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں پچیس ہزار روپے سے زائد کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت کئی ہفتوں بعد نچلی سطح پر پہنچی۔
اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی، جس سے خریداروں کی توجہ ایک بار پھر مارکیٹ کی طرف مبذول ہو گئی ہے۔ تاجروں کے مطابق حالیہ دنوں میں قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں، تاہم تازہ کمی کے بعد خرید و فروخت میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی سونے کے ساتھ ساتھ نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ اور فی دس گرام چاندی کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کی کمی دیکھنے میں آئی، جس سے صنعتی استعمال اور زیورات کے شعبے سے وابستہ افراد نے قدرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق چاندی کی قیمتیں بھی عالمی رجحانات سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، اسی لیے عالمی منڈی میں تبدیلیاں فوری طور پر مقامی سطح پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد منافع خوری، عالمی مالیاتی پالیسیوں اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے قیمتوں کو نیچے لانے میں کردار ادا کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چاندی کی قیمتوں میں سونے کی قیمت
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔