Jasarat News:
2026-07-24@05:13:24 GMT

جینے دو کراچی مارچ

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ایک بار پھر اپنے جینے کے حق کے لیے سڑکوں پر آنے کو ہے۔ جماعت ِ اسلامی کے تحت آج سہ پہر 3 بجے شاہراہِ فیصل پر منعقد ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ اہل ِ کراچی کے صبر، محرومی اور اجتماعی شعور کی توانا آواز ہے۔ اس مارچ کی تیاریاں اور انتظامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں، کراچی کے تاجروں نے بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے، خواتین کی شمولیت اس تحریک کو مزید وسعت دے رہی ہے، جبکہ امیر جماعت ِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا خصوصی خطاب اس جدوجہد کو فکری سمت دے گا اور امید کی جارہی ہے کہ کراچی کے حوالے سے وہ کوئی بڑا اعلان کرنے جارہے ہیں۔ امیر جماعت ِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی شہر بھر میں عوامی رابطہ مہم جاری ہے۔ سیکڑوں مساجد کے باہر اور اہم عوامی مقامات پر احتجاجی مظاہرے، ہزاروں ہینڈ بلز کی تقسیم اور شہریوں کو مارچ میں شرکت کی دعوت، یہ سب اس امر کا ثبوت ہیں کہ کراچی اب مزید خاموش رہنے کو تیار نہیں ہے۔ شہر کے تاجر، محنت کش، خواتین اور نوجوان سب ایک ہی سوال اٹھا رہے ہیں: کیا کراچی کے باسی جینے کے حق سے بھی محروم رہیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 18 برس سے سندھ پر قابض صوبائی حکومت کی نااہلی، بدانتظامی اور کرپشن نے کراچی کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ جھوٹے دعووں اور کھوکھلے وعدوں کے سوا شہریوں کے حصے میں کچھ نہیں آیا۔ شہر کا بنیادی انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے، حالانکہ کراچی پورے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نصف سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے، سردیوں میں بھی 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے، اور بی آر ٹی ریڈ لائن کے نام پر یونیورسٹی روڈ کو کھود کر شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ جہانگیر روڈ سمیت اہم شاہراہیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ جسارت ڈیجیٹل پر ہر کچھ دنوں پرکراچی کے انفرا اسٹریکچر پر رپورٹ بن رہی ہے۔ یہی نہیں، شہری کبھی کھلے گٹروں میں گر کر جان سے جاتے ہیں تو کبھی ڈمپروں، ٹینکروں اور ٹرالرز کے نیچے کچلے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال ہیوی ٹریفک کے حادثات میں 857 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ اسٹریٹ کرائم روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ یہ سب کسی ایک حادثے یا وقتی غفلت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، منظم اور مجرمانہ لاپروائی کی داستان ہے اور پیپلز پارٹی صرف کراچی میں باتیں کرہی ہے۔ ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ دراصل شہر کی ضرورت ہے اور ضرورت اس امر کی بھی ہے کے عوام بڑی تعداد میں اس مارچ میں شریک ہوکر اپنا احتجاج رکارڈ کرائیں کیونکہ زندہ معاشرے کی یہی نشانی ہے کہ وہ مزاحمت کرتی ہے اور مزاحمت و جدوجہد ہی آپ کو جائز حق دلاتی ہیں۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کراچی کے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف