باڑہ سیاسی اتحاد کا تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنیوالے متاثرہ خاندانوں کی حمایت کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز

پشاور: (آئی پی ایس) باڑہ سیاسی اتحاد کے شرکاء نے تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی، ہمدردی اور بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔
باڑہ سیاسی اتحاد کے تیراہ کے معاملے پر ہونے والے اہم جرگہ سے قبائلی مشران نے اہم خطاب کیا۔

جرگے کے شرکاء نے کھل کر امن کے حق میں آواز بلند کی جبکہ تیراہ متاثرین کیلئے مختص فنڈز میں صوبائی حکومت کی نااہلی اور کرپشن پر شدید تنقید کی، جرگہ مشران نے کہا کہ تیراہ متاثرین میں 4 ارب روپے کی تقسیم میں کرپشن اور سیاسی مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔

قومی جرگے کا ایجنڈا سابق چیئرمین باڑہ سیاسی اتحاد حاجی شیریں آفریدی نے پیش کیا۔

سابق چیئرمین باڑہ سیاسی اتحاد حاجی شیریں آفریدی نے کہا کہ ہم نے خوارج کے ساتھ دو مرتبہ جرگہ کیا، اس کے بعد جرگے کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور تیراہ کے مشران کو سونپ دی، مگر دونوں جرگے ناکام رہے۔

جرگہ مشران نے کہا کہ متاثرینِ تیراہ کے مسائل کسی ایک علاقے یا قبیلے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے، جس کے حل میں مزید تاخیر ناقابلِ برداشت ہے، آبادی کے عارضی انخلا کے تمام مراحل اور بات چیت کے دوران صوبے کی اور بالخصوص ضلع خیبر کی سیاسی قیادت موجود تھی جن سے مشاورت کے بعد ہی آبادی کے عارضی انخلا کا فیصلہ کیا گیا۔

جرگہ مشران کا کہنا تھا کہ وادیٔ تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح ضمانت دی جائے، خوارج کی جانب سے تیراہ میں جاری فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر حملے اور کواڈ کاپٹر گرانے جیسے اقدامات کو فوری طور پر بند کیا جائے کیونکہ یہ عمل عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تیراہ متاثرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور متاثرین سے کئے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں کو تحریری اور عملی طور پر تسلیم کر کے نافذ کیا جائے، متاثرین کے گاڑیوں کے واجب الادا بقایا جات فوری طور پر ادا کئے جائیں۔

جرگہ مشران نے کہا کہ اگر ادائیگی نہ کی گئی تو ہم ان گاڑیوں کو جلوس کی شکل میں پشاور لے جائیں گے اور بھرپور احتجاج کریں گے، متاثرینِ تیراہ کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری، انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں ںے مزید کہا کہ تیراہ میں گھر یا جائیداد رکھنے والے تمام رہائشیوں کو آئی ڈی پیز سٹیٹس دے کر مکمل رجسٹریشن کی جائے اور سب کو امدادی پیکیج میں شامل کیا جائے، اپر باڑہ اور باڑہ پلین ایریا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے، جسے ہنگامی بنیادوں پر کنٹرول کیا جائے۔

جرگہ مشران کا کہنا تھا کہ قیامِ امن کیلئے آج سے باڑہ میں امن تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

سیاسی اتحاد باڑہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرینِ تیراہ کے ساتھ ہر فورم پر کھڑا رہے گا اور ان کے حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسوہاوہ میں سرکاری افسر پر قاتلانہ حملہ، ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے سوہاوہ میں سرکاری افسر پر قاتلانہ حملہ، ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے جنگی فضا کے برخلاف امریکا کیساتھ بات چیت کے فریم ورک پر کام ہو رہا ہے، ایران پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت، ہمارے پاس شواہد موجود ہیں: محسن نقوی آبی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں، پاکستانی مندوب امریکا کی بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت، پاکستان سے یکجہتی کا اظہار ایرانی سپریم لیڈر کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے، صدر کے ہمراہ امام خمینی کے مزار پر حاضری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: باڑہ سیاسی اتحاد

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت