غزہ کیلئے جزوی ریلیف؟ اسرائیل نے رفح کراسنگ محدود طور پر کھول دی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
غزہ / استنبول: اسرائیل نے تقریباً دو برس بعد غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح سرحدی گزرگاہ کو محدود سطح پر دوبارہ کھول دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس اقدام کو ’’پائلٹ آپریشن‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ لوگوں کی باقاعدہ آمد و رفت پیر سے شروع ہوگی۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں روزانہ تقریباً 150 افراد کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ تقریباً 50 افراد کی واپسی متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ چھوڑنے والے فلسطینی صرف اسی راستے سے واپس آ سکیں گے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیل سرحدی گزرگاہ پر براہِ راست فوجی تعینات نہیں کرے گا بلکہ جدید نگرانی کے آلات کے ذریعے دور سے مانیٹرنگ کی جائے گی۔ مصر کی جانب سے روزانہ ان افراد کی فہرست اسرائیل کو فراہم کی جائے گی جو اگلے 24 گھنٹوں میں سرحد عبور کریں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیل محدود تعداد میں زخمی فلسطینی جنگجوؤں کو بھی رفح کے راستے باہر جانے کی اجازت دے سکتا ہے، اور اصولی طور پر جو افراد باہر جائیں گے انہیں بعد میں واپسی کی اجازت دی جائے گی۔
تاحال اسرائیلی، مصری یا فلسطینی حکام کی جانب سے اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ رفح سرحدی گزرگاہ انسانی امداد کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جس پر اسرائیل نے مئی 2024 میں قبضہ کیا تھا۔ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران اب تک غزہ میں 71 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
اگرچہ جنگ بندی معاہدہ نافذ ہے، تاہم غزہ کے میڈیا آفس کے مطابق 10 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں مزید 524 افراد جاں بحق اور 1,360 زخمی ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔