ٹرانسپورٹ اتحاد نے کرایوں میں اضافے کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے ڈیزل کی قیمت میں اضافے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر پاکستانی متاثر ہوتا ہے وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب ٹرانسپورٹرز کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 4 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا۔ صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے ڈیزل کی قیمت میں اضافے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر پاکستانی متاثر ہوتا ہے وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب ٹرانسپورٹرز کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے۔ ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ حالیہ ہڑتال کے دوران حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہڑتال کے دوران وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کے ساتھ متعدد مسائل پر معاہدہ طے پایا تھا مگر تاحال ان معاہدوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے خبردار کیا کہ اگر معاہدوں پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو وہ دوبارہ ملک گیر ہڑتال پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب پر عائد ہو گی۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹرز نے بھی خودساختہ بسوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 268 روپے 38 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ آئندہ 15 روز کے لیے پٹرول کی فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے پر برقرار رکھی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کرایوں میں میں اضافے ڈیزل کی کر دیا کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔