فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد:
فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔
بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس میں عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کے لیے 2 دن کی مہلت دے دی ہے۔
کیس کی سماعت بینکنگ کورٹ کے جج عبدالغفور کاکڑ نے کی جب کہ فارن فنڈنگ کیس میں اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت جج عبدالغفور کاکڑ نے استفسار کیا کہ آپ ابھی تک کیا کر رہے ہیں اور چالان مکمل کیوں نہیں ہوا۔ اس پر اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں متعلقہ ملک سے رائے لینے کے لیے خطوط لکھے گئے ہیں۔ جج عبدالغفور کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ 2022 سے چل رہا ہے اور آپ نے ابھی تک اس میں دلچسپی ہی نہیں لی۔
عدالت نے کہا کہ وہ تفتیشی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ سماعت پر طلب کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ اس پر اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت ایک ہفتے یا 10 دن کا وقت دے تاکہ چالان مکمل کیا جا سکے۔ شوکاز نوٹس اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرنے کا حکم فی الحال نہ دیا جائے۔
جج عبدالغفور کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ وہ اس معاملے کو دیکھ لیتے ہیں ۔ عدالت نے پراسیکیوشن کو ہدایت کی کہ 2 دن میں اپنی کارکردگی دکھائیں۔
بعد ازاں عدالت نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فارن فنڈنگ فنڈنگ کیس عدالت نے کیس میں کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔