data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-03-3
کراچی کی موجودہ ناگفتہ بہ صورتحال نے یہاں کے شہریوں بالخصوص نوجوانوں کو سخت مایوسی اور اضطراب کا شکار کردیا ہے۔ بنیادی سہولتوں کے فقدان اور انفرا اسٹرکچر کی تباہی سے صاف محسوس ہورہا ہے، ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت شہر کوتباہ وبرباد کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ شہر کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس شہر کو کوئی’’اون‘‘ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حکومتی نااہلی و مجرمانہ غفلت، سانحہ گل پلازہ، ڈمپر و ٹینکر سے ہونے والی ہلاکتوں، اسٹریٹ کرائمز، انفرا اسٹرکچر کی تباہ حالی اور کراچی کے عوام کے دیگر مسائل کے حوالے سے اتوار کے روز شاہراہ فیصل پر ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ منعقد کرکے جماعت ِ اسلامی نے ایک بار پھر کراچی کے حق میں آواز بلند کی ہے اور14 فروری کو سندھ اسمبلی پر دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا یہ کہنا بجا ہے کہ سندھ سالٹ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر کارپوریشن سمیت شہری ادارے با اختیار شہری حکومت کے حوالے کرنا ہوں گے اور یہ کہ کراچی کو آئین کے تحت با اختیار شہری حکومت دی جائے جس میں سارے ادارے اس کے ماتحت ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت ِ اسلامی کا یہ مارچ عوامی احساسات وجذبات کا ترجمان ہے، یہ مارچ سندھ حکومت کے خلاف محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ان کے لیے نوشتۂ دیوار ہے، حکومت کو کراچی کے لاکھوں عوام کے مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔