ملکی پیٹرولیم کمپنی نے 47 ارب کی لیوی چوری تسلیم کر لی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
کراچی (ویب ڈیسک) ملکی پیٹرولیم کمپنی نے 47 ارب کی لیوی چوری تسلیم کر لی۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کی انکوائری کے بعد ملکی پیٹرولیم کمپنی نےسرکاری خزانے میں ایک ارب روپے کی رقم جمع کرادی جبکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے لئےچیکس اور پراپرٹی کو گارنٹی کے طور پر جمع کروادیا۔
ایف آئی اے کی انکوائری میں سابق سی ای او کے الیکٹرک تابش گوہر سمیت 13 ملزمان نامزد ہیں، بیشتر ملزمان کے بیانات قلمبند ہیں،وفاقی تحقیقاتی ادارے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں کیس انکوائری نمبر 03/2023 کے تحت پیٹرولیم کمپنی کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ پیٹرولیم لیوی کی عدم ادائیگی کی انکوائری جاری ہے۔
لاہور میں بسنت پر ایئر پورٹ سے ملحقہ علاقوں میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی گئی
انکوائری کے مطابق کمپنی نے 2019 سے 2022 کے دوران وفاقی حکومت کو 33.
نامزد افراد میں امیر عباسی، عامر عباسی، اسامہ قریشی، امیر وحید احمد، محمد علی الدین اے، سید حسن زیدی، عظمیٰ عباسی، محمد وصی خان، اختر حسین ملک، سید ارشد رضا، محمد یاسین خان، تابش گوہر اور اسماء شیخ شامل ہیں۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پیٹرولیم کمپنی کی پیٹرولیم
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔