سرینگر جامع مسجد میں شب برات کے اجتماع پر پابندی، میرواعظ کشمیر خانہ نظر بند
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
میرواعظ کشمیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ جب پورے خطے کی مساجد اور عبادت گاہیں اس مقدس رات میں عبادت گزاروں سے بھری ہونگی، جامع مسجد سرینگر مقفل ہے اور میں خود گھر پر نظر بند ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ شب برات کے موقع پر آج جامع مسجد سرینگر میں عبادات و عوامی اجتماع پر پابند عائد کی گئی ہے جبکہ حکام نے میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کو ان کی رہائش گاہ واقع نگین میں نظر بند کر کے مکان کے باہر پولیس کا پہرا بٹھا دیا ہے۔ انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آج نماز عصر سے قبل ہی انجمن اوقاف کے عملہ کو پولیس کی جانب سے جامع مسجد سرینگر کے دروازے بند کئے جانے کی ہدایت دی گئی کیونکہ شب برات کی تقریب اور عبادات کی اجازت نہیں ہے۔ انجمن اوقاف کا کہنا ہے کہ اس مقدس موقع کی نسبت سے پیشگی تیاریوں کے باوجود انجمن کو ہدایت دی گئی کہ ’’مسجد کو پوری رات بند رکھا جائے۔
انجمن اوقاف جامع مسجد نے اس امر پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر ایک اہم دینی موقع پر کشمیر کی تاریخی جامع مسجد میں اجتماعی عبادات پر پابندی عائد کرکے میرواعظ کو بھی نظر بند کر دیا گیا۔ یہ عمل 2019ء سے جاری اُس سلسلے کا حصہ ہے جس کے تحت تاریخی جامع مسجد میں بڑے مذہبی اجتماعات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انجمن اوقاف کا انتظامیہ کے اس عمل کو ’’عوام کے مذہبی حقوق میں صریح مداخلت‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔
میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ جب پورے خطے کی مساجد اور عبادت گاہیں اس مقدس رات میں عبادت گزاروں سے بھری ہوں گی، جامع مسجد سرینگر مقفل ہے اور میں خود گھر پر نظر بند ہوں۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ شب برات بھی اُن مواقع کی طویل فہرست میں شامل ہو گئی ہے جہاں 2019ء سے وادی کی سب سے بڑی مسجد میں عبادات کو بزور طاقت روکا گیا۔ کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی، صرف بند دروازے اور خاموشی، جو لوگ "نارملسی" اور "نیا کشمیر" کے دعوے کرتے ہیں، ان کے لئے یہ تضاد خود وضاحت طلب ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میرواعظ کشمیر انجمن اوقاف شب برات کہا کہ
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔