بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی صارفین پر 10 ارب 83 کروڑ کے بوجھ کی منتقلی کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
فائل فوٹو
بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین پر 10 ارب 83 کروڑ روپے کا بوجھ منتقل کرنے کی درخواست کردی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے درخواست رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی ہے۔
نیپرا اعلامیے کے مطابق درخواست میں اکتوبر تا دسمبر 24 ارب 24 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں شامل کیے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ دوسری سہ ماہی میں آپریشنز اینڈ مینٹیننس کی مد میں 1 ارب 65 کروڑ 50لاکھ روپےکمی ہوئی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ یوز آف سسٹم چارجز اور مارکیٹ آپریشن فیس میں 3 ارب روپے کمی ہوئی، اضافی بجلی استعمال پیکیج کے تحت 7 ارب 52 کروڑ روپے کمی ہوئی۔
بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر نیپرا میں سماعت 17 فروری کو مقرر کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بجلی تقسیم کار کمپنیوں
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔