حکومت نے ایران و عراق لے جانے والے رجسٹررڈ زیارات گروپ آرگنائزرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی صدارت میں 86 نئے زیارات گروپ آرگنائزرز کو سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے جس کے بعد وزارت سے رجسٹرڈ زیارات گروپ آرگنائزرز کی تعداد 260 ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزارتِ مذہبی امور نے عراق میں مقدس مقامات کی زیارات کے لیے نئی ہدایات جاری کردیں
سردار محمد یوسف نے کہا کہ تمام مجاز زیارات گروپ آرگنائزرز کی فہرست وزارت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور یہ اقدام ایران اور عراق کے زیارات کے نظام کو مربوط کرنے کے حکومتی ویژن کا حصہ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت خارجہ کے ذریعے متعلقہ سفارتخانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ صرف مجاز کمپنیوں کو ویزوں کا اجرا کیا جائے۔
مزید پڑھیے: ایران و عراق کے مقدس مقامات کی زیارات، پرانا قافلہ سالار نظام عنقریب ختم کرنے کا فیصلہ
انہوں نے نئے رجسٹرڈ کمپنیوں سے بھی کہا کہ وہ ایران اور عراق جانے والے زائرین کو بہترین سہولیات فراہم کریں۔
سردار محمد یوسف نے مزید کہا کہ کمپنیوں کی مؤثر نگرانی کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک جدید ڈیجیٹل نظام بھی لا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور عراق میں زیارات کے لیے نیا مربوط نظام لا رہے ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف
وفاقی وزیر نے بروقت نظام کے اجرا پر وفاقی سیکریٹری ڈاکٹر ساجد چوہان اور شعبہ زیارات کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
زیارات گروپ آرگنائزرز سردار محمد یوسف وزارت مذہبی امور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: زیارات گروپ ا رگنائزرز سردار محمد یوسف سردار محمد یوسف زیارات گروپ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔