لاہور+اسلام آباد(نامہ نگار+اپنے سٹاف رپورٹر سے)وفاقی حکومت نے آئی جی پنجاب  ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کرکے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے جبکہ راؤ عبد الکریم کو آئی جی پنجاب تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن کردیا جبکہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے راجہ رفعت مختار کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ برانچ رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔نئے  آئی جی پنجاب  راؤ عبدالکریم کا تعلق پولیس سروس کے 24 ویں کامن سے ہے۔ قبل ازیں وہ  ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔  ایڈیشنل آئی جی پنجاب ہائی وے پٹرول،کمانڈنٹ پی سی، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب، آر پی او گوجرانوالہ، ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن بھی  رہ چکے ہیں۔راؤ عبدالکریم  کا تعلق نواب شاہ سے ہے۔انہوں نے 1996ء  میں بطور اے ایس پی سروس جوائن کی۔ اے ایس پی یو ٹی سکھر،ایس ڈی پی او سکھر سٹی،لطیف آباد حیدر آباد، چنیوٹ کے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے۔ ایس پی گوجرانوالہ، لاہور اور شیخوپورہ  ڈی پی او میانوالی، قصور اور جھنگ  رہ چکے ہیں۔ دریں اثناء ڈی جی ایف آئی اے راجہ رفعت مختار کو ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن مقرر کر  دیا گیا  اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے  باضابطہ نوٹیفکیشن کردیا ۔دریں اثناء آئی جی پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم نے چارج سنبھال لیا۔  آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کی سنٹرل پولیس آفس آمدپر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ سینئر افسروں  نے خوش آمدید کہا۔ آئی جی پنجاب نے پولیس شہدا کی یادگار پر  فاتحہ خوانی کی۔ آئی جی پنجاب نے  اہم اجلاس کی صدارت بھی کی۔ صحافیوں کو اپنی پالیسی ترجیحات بتاتے ہوئے آئی جی راؤ عبدالکریم نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق جومنصوبے شروع کئے گئے ، ان کو مزید بہتری کے ساتھ جلد از جلدمکمل کرایا جائے گا۔عوام کی جان و مال کا تحفظ اور ان کی بے لوث خدمت میری اولین ترجیح ہے۔ شہریوں میں احساسِ تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے پبلک آرڈر ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔تھانہ کلچر میں بہتری آئی ہے اور مزید بہتری لائی جائے گی۔ سوالات کے جواب میں کہا کہ تھانہ کلچر میں بہت بہتری آئی ہے اور بعض جگہوں پر مزید ضرورت ہے۔ بھاٹی گیٹ کے علاقے میں سیوریج لائن میں گرنے سے ماں بیٹی کی ہلاکت کے  واقعہ کی انکوائری ہو رہی ہے۔ بسنت کی تیاریاں میں نے دیکھ لی ہیں۔ پولیس بسنت کے حوالے سے بہت ایکٹیو ہے۔ میڈیا بہت اہم رکن ہے، آپ سسٹم میں مزید بہتری دیکھیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان