اداکارہ لائبہ خان کی شادی کے سب سے یادگار لمحات وائرل
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستانی اداکارہ لائبہ خان نے اپنی شادی کے یادگار لمحات مداحوں سے شیئر کردیے، سوشل میڈیا پر ان کی بارات کی تصاویر وائرل ہورہی ہیں۔
لائبہ خان ایک نہایت باصلاحیت اور ورسٹائل پاکستانی ڈرامہ اداکارہ ہیں جن کے سوشل میڈیا پر 4 ملین سے زائد فالوورز ہیں جو اس وقت اپنے شادی کی تقریبات کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔
View this post on Instagram
A post shared by Zakia Rukia Salon & Spa (@zakia_rukia_salon)
اداکارہ نے چند روز قبل ہی مدینہ منورہ میں نکاح کیا تھا جس کے بعد انہوں نے مداحوں کے ساتھ یہ خبر شیئر کی۔
لائبہ خان کی شادی کی تقریبات میں ان کے قریبی دوست اور خاندان کے افراد ہی دکھائی دے رہے ہیں، حال ہی میں ان کے مہندی اور قوالی کے ایونٹس کراچی میں ہوئے، جن میں کئی معروف اداکار بھی شریک ہوئے، جن میں فیروز خان اور توبہ انور شامل ہیں۔
آج لائبہ خان کا برات کا ایونٹ کراچی میں ہوا، انہوں نے اپنی برات کے لمحات کی خوبصورت ویڈیو اور فوٹوشوٹ شیئر کیا۔
اس موقع پر انہوں نے خوبصورت سرخ لہنگا پہنا، جو سنہری تیلا اور دبکا ورک سے بھرپور تھا، ان کا انداز زیادہ تر کترینہ کیف کی برائیڈل لک سے متاثر لگ رہا تھا۔
لائبہ نے بھارتی اسٹائل کا برائیڈل لہنگا پہنا، جس کے ساتھ چو لی اور دوپٹہ روایتی بھارتی انداز میں ڈریپ کیا گیا تھا جب کہ جیولری بھی بھارتی اسٹائل کی تھی۔
یاد رہے کہ لائبہ خان نے اپنے شوہر سے متعلق تفصیلات بھی پوسٹ کی تھیں، سوشل میڈیا پر لائبہ خان کی شادی سے متعلق افواہوں کا بازار گرم ہے اور کئی غیر مصدقہ دعوے گردش کر رہے ہیں۔
جب سے لائبہ خان نے اپنے شوہر کے ساتھ آفیشل تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں، بعض افراد کی جانب سے ان کے شوہر پر تنقید کی جا رہی ہے اور منفی تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔
View this post on Instagram
A post shared by Laiba Khan (@laibaakhanofficial)
اداکارہ کے بارے میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص سے شادی کر رہی ہیں جو پہلے سے شادی شدہ ہے اوران کی ایک بیٹی بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر لائبہ خان
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت