بلوچستان میں تعاقبی اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری،3روز میں فتنہ الہندوستان کے کتنے دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ۔۔؟ اہم تفصیلات جانیے
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
لاہور ( طیبہ بخاری سے )بلوچستان میں 3روز سے جاری سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں فتنہ الہندوستان کے کتنے دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ۔۔؟ اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ 3 روز سے جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں فتنہ الہندوستان کے 197 دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں، ان دہشت گردوں کے خلاف کچھ تعاقبی اور سینیٹائزیشن آپریشنز اب بھی جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مادر وطن اور معصوم شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے پاکستان کے 22 بہادر جوانوں بشمول آرمی، ایف سی ، پولیس اور پی ایم ایس اے نے جام شہادت نوش کیا۔ان دہشت گردوں کی بربریت کا شکار معصوم شہریوں بشمول بلوچ شہریوں کی تعداد 36 ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔
سونا14ہزار800روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 5لاکھ 29ہزار162روپے ہوگئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔