بھائی کے ہمراہ والد سے ملنے پاکستان آنا چاہتا ہوں، قاسم خان
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے کہا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے ہمراہ والد سے ملنے پاکستان سے آنا چاہتے ہیں۔
ایک بیان میں قاسم خان نے کہا کہ میرے والد اور بانی پی ٹی آئی 914 دن سے قید تنہائی میں ہیں، ان کی صحت بگڑ رہی ہے، انہیں آزاد طبی سہولت تک رسائی نہیں دی جارہی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے صاحبزادے نے مزید کہا کہ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے ملنے پاکستان آنا چاہتے ہیں، اب حکومت جان بوجھ کر ہماری ویزا درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہی۔
قاسم خان نے مزید کہا کہ قیدی کو علاج سے محروم رکھنا ظلم ہے، بچوں کو والد سے ملنے سے روکنا اجتماعی طور پر سزا دینے کے مترادف ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ناقابل تلافی نقصان سے پہلے اس معاملے پر آواز اٹھائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: والد سے ملنے کہا کہ
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔