WE News:
2026-07-24@08:19:34 GMT

5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کیوں منایا جاتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کیوں منایا جاتا ہے؟

پاکستان ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر مناتا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کی قربانیوں کو یاد کیا جا سکے۔ یہ دن پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا موقع فراہم کرتا ہے۔

تاریخی پس منظر

5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باقاعدہ آغاز 1990 میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کیا۔ اس اقدام کی حمایت اُس وقت کی وزیر اعظم بiنظیر بھٹو نے بھی کی۔

اس سے قبل 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کشمیر پر انڈین حکومت کے معاہدے کے خلاف فروری کے مہینے میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا تھا۔

اس دن کا بنیادی مقصد کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے پاکستان اور کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کشمیری عوام کو اپنی رائے کے حق سے محروم رکھنے اور بھارت کے قبضے کے خلاف احتجاج بھی کیا جاتا ہے۔

دن کے اہم پہلو

یوم یکجہتی کشمیر صرف پاکستان میں نہیں بلکہ آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھی مناتے ہیں۔ اس موقع پر ریلیاں، سیمینارز اور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ عالمی برادری کو کشمیری عوام کے حقوق کی طرف توجہ دلائی جا سکے۔ یہ دن کشمیری عوام کی قربانیوں اور جدوجہد آزادی کی یاد دلاتا ہے۔

5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کی جائے اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کی جا سکے۔ پاکستان اور کشمیری عوام اس دن اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا عہد دوبارہ کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

5 فروری بھارت بینظیر بھٹو پاکستان ذوالفقار علی بھٹو قاضی حسین احمد مقبوضہ کشمیر یوم یکجہتی کشمیر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بینظیر بھٹو پاکستان ذوالفقار علی بھٹو یوم یکجہتی کشمیر فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کے کے ساتھ

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو