5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کیوں منایا جاتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پاکستان ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر مناتا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کی قربانیوں کو یاد کیا جا سکے۔ یہ دن پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا موقع فراہم کرتا ہے۔
تاریخی پس منظر5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باقاعدہ آغاز 1990 میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کیا۔ اس اقدام کی حمایت اُس وقت کی وزیر اعظم بiنظیر بھٹو نے بھی کی۔
اس سے قبل 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کشمیر پر انڈین حکومت کے معاہدے کے خلاف فروری کے مہینے میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا تھا۔
اس دن کا بنیادی مقصد کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے پاکستان اور کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کشمیری عوام کو اپنی رائے کے حق سے محروم رکھنے اور بھارت کے قبضے کے خلاف احتجاج بھی کیا جاتا ہے۔
دن کے اہم پہلویوم یکجہتی کشمیر صرف پاکستان میں نہیں بلکہ آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھی مناتے ہیں۔ اس موقع پر ریلیاں، سیمینارز اور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ عالمی برادری کو کشمیری عوام کے حقوق کی طرف توجہ دلائی جا سکے۔ یہ دن کشمیری عوام کی قربانیوں اور جدوجہد آزادی کی یاد دلاتا ہے۔
5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کی جائے اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کی جا سکے۔ پاکستان اور کشمیری عوام اس دن اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا عہد دوبارہ کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
5 فروری بھارت بینظیر بھٹو پاکستان ذوالفقار علی بھٹو قاضی حسین احمد مقبوضہ کشمیر یوم یکجہتی کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بینظیر بھٹو پاکستان ذوالفقار علی بھٹو یوم یکجہتی کشمیر فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کے کے ساتھ
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔