نمازیوں کو شہید کیا گیا، دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں، گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
سٹی 42: گورنر پنجاب سلیم حیدر نے کہا پہلے بھی دہشتگردی کا مقابلہ کیا آئندہ بھی کریں گے ۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پمز اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پہلے بھی دہشتگردی کا مقابلہ کیا، آئندہ بھی کریں گے۔ترلائی کلاں دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔نمازیوں کو شہید کیا گیا، دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں۔پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ملک کی خاطر جان قربان کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں ۔خود کش حملہ آور نے مسجد میں پہلے فائرنگ کی ہھر خود کو اڑا لیا۔پوری قوم خون کے آنسو رو رہی ہے، ماوں نے بچوں کو مسجد بھیجا۔پاکستانی عظیم قوم ہے، ہماری فوج کے جوان، افسران روزانہ ملک پر جانیں دے رہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
مشکل کی گھڑی ہے، پوری قوم اپنی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ہم نے پہلے بھی دہشتگردی کو شکست دی تھی، اب بھی دھشتگردوں کو شکست دیں گے۔پاکستان پہلے بھی زندہ باد تھا،اب بھی ہمیشہ زندہ باد ہو گا۔بڑے افسوس کا مقام ہے جو ساری زندگی ہمیں کھاتے رہے وہ دھشتگردی کررہے ہیں۔بلوچستان میں حال ہی میں ایک واقعہ ہوا ہے۔ہماری سیکیورٹی فورسز نے بی ایل اے کے خلاف کارروائی کی۔بھارت دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے، کسی صورت یہ مناسب نہیں۔کوئی بھی مسلمان عبادت گاہ پر حملہ نہیں کر سکتا
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کاروائیاں، 25 من مردہ مرغیاں، ساڑھے 3 من گائے و بکرے کا گوشت تلف
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پہلے بھی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔