ہمیں غدار کہا گیا، ملک توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گی، سردار اختر مینگل
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
سربراہ بی این پی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حوالے سے میں سپریم کورٹ گیا، پارلمنٹ میں تقریریں کیں اور سیمیناروں میں تجاویز دیں، جس کے بدلے ہمیں غدار کہا گیا جبکہ ملک توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومتی اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے میں سپریم کورٹ گیا، پارلمنٹ میں تقریریں کیں اور سیمیناروں میں تجاویز دیں، جس کے بدلے ہمیں غدار کہا گیا جبکہ ملک توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔ لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ موجودہ حکومت کا 8 فروری کا الیکشن جس پر آج احتجاج کیا جا رہا ہے اور اسی 8 فروری کے الیکشن کے بعد آپ نے بلوچستان کی مصنوعی قیادت بنائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس پر احتجاج کریں گے تو پھر ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی کی طرح ایک ٹویٹ پر 17 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے، ملک کو توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جن کو آپ دہشت گرد کہتے ہیں 31 جنوری کو لوگوں نے ان کو گلے مل کر سیلفیاں بنائیں، اس پر اہل پنجاب کو بھی سوچنا ہوگا، کسی وزیر کے ساتھ بلوچستان کے لوگ سیلفیاں نہیں لیں گے مگر ان کے ساتھ لیتے ہیں۔ اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں نے ان کو ویلکم کرتے ہیں اور اپنا مسائل کا حل سمجھتے ہیں، کیوں آپ نے نفرت کی دیواریں کھڑی کردیں یہ نفرت کی دیوار کبھی نہیں ٹوٹی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے میرے پاس کوئی تجویز نہیں ہے، میں سپریم کورٹ گیا، پارلیمنٹ میں تقریریں کیں، اس طرح کے سیمیناروں میں تجاویز دیں مگر اس کے بدلے ہمیں غدار کہا گیا، میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے۔ بلوچستان اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکا ہے، اس کی ذمہ دار یہ ریاست ہے، 1973 میں جو نعرہ لگایا تھا ادھر ہم ادھر تم اب یہ نعرے بھی آپ لگاؤ گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہمیں غدار کہا گیا کہ بلوچستان کے اختر مینگل نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔
لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے
دونوں قائدین نے مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔
مزید :