امریکا نے افغانستان کو مذہبی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں والا ملک قرار دینے کی تجویز دے دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے افغانستان کو مذہبی آزادی کی سنگین، منظم اور مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث کنٹری آف پارٹیکولر کنسرن (CPC) قرار دینے کی سفارش کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے ٹی ٹی پی حملوں میں اضافہ، پاکستان کی انسدادی کارروائیاں دہشتگردوں کے لیے بڑی ناکامی، اقوام متحدہ
کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت افغانستان میں مذہبی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ریاستی سطح پر ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو مذہبی اقلیتوں اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے حقوق کو سلب کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مذہب کو حکومتی کنٹرول مضبوط کرنے اور اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں طالبان کے نئے تعزیری قانون پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جس کے تحت حنفی مکتبہ فکر سے اختلاف رکھنے والوں کی مذہبی شناخت کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نتیجے میں مذہبی و سماجی تفریق کو تقویت ملتی ہے اور قانونی تحفظ کمزور ہوتا ہے۔
USCIRF کے مطابق شیعہ، احمدیہ، ہندو، سکھ اور عیسائی برادریوں سمیت دیگر اقلیتوں کو دباؤ، امتیازی سلوک اور مذہبی پابندیوں کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں عوامی سزاؤں، کوڑوں، سنگساری اور دیگر سخت سزاؤں کے نفاذ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
خواتین اور بچیوں کی صورتِحال کو بھی رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں، خواتین کی نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت پر قدغنیں مذہبی احکامات کے نام پر نافذ کی جا رہی ہیں، جس سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: مرکزی حکومت ناکام: دیرپا امن کے لیے افغانستان کو نئے سیاسی ڈھانچے کی ضرورت
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدارس کے نظام میں نظریاتی سختی بڑھ رہی ہے اور اخلاقی قوانین کے ذریعے معاشرتی رویوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
USCIRF نے زور دیا کہ افغانستان کو CPC قرار دینا اس بات کا عالمی اعتراف ہوگا کہ وہاں مذہبی آزادی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور بین الاقوامی برادری کو اس حوالے سے مؤثر اور مربوط پالیسی اپنانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
CPC USCIRF افغانستان امریکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان امریکا افغانستان کو رپورٹ میں کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔