Express News:
2026-07-24@04:58:56 GMT

بسنتی سیاست

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

جمہوری نظام حکومت میں شفاف، منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہوتی ہے۔ کوئی دوسرا ادارہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ مہذب اور اصول پسند جمہوری معاشروں میں آئین و قانون کی بالادستی کا احترام کیا جاتا ہے۔ وہاں الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمے داری کے مطابق وقت مقررہ پر منصفانہ اور شفاف انتخابات کے عمل کو یقینی بناتا ہے۔

کوئی دوسرا سرکاری و حکومتی ادارہ الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی سب ہی سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرتی ہیں۔ ہارنے والے امیدوارکشادہ دلی کے ساتھ جیتنے والوں کو مبارک باد دیتے ہیں۔ بعینہ شکست خوردہ سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومتی معاملات کو آگے بڑھانے میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتی ہیں۔

 امریکا جیسے ملک میں لوکل باڈیز کے انتخابات میں بھی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جاتا ہے جس کی تازہ مثال بھارتی نژاد مسلمان امریکی سیاستدان ظہران ممدانی کی نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں شان دار کامیابی ہے حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مقدور بھر کوشش کی کہ ظہران ممدانی میئر کے انتخاب میں کسی صورت کامیابی حاصل نہ کر سکیں، لیکن انتخابی نظام کی مضبوطی، شفافیت اور آئین و قانون کی بالادستی کی وجہ سے امریکی صدرکی مداخلت کاری کو شکست اور ممدانی کو فتح نصیب ہوئی۔ بعدازاں صدر ٹرمپ نے ان سے ملاقات بھی کی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے تمام ریاستی ادارے و سیاسی جماعتیں آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدارکی پاس داری کے دعوے تو ضرورکرتی ہیں اور تمام آئینی و حکومتی اداروں کے سربراہان بھی اپنے بیانات میں آئین و قانون کی حکمرانی کے بلند و بانگ دعوے تو ضرورکرتے ہیں، لیکن عملاً ایسا نظر نہیں آتا۔

 پاکستان کے الیکشن کمیشن نے آج تک ملک میں ہونے والے تمام عام انتخابات میں شفافیت و غیر جانب داری کو یقینی بنانے میں اپنی آئینی ذمے داری کو احسن طریقے سے پورا نہیں کیا، لہٰذا ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کے الزامات نے الیکشن کمیشن کو متنازعہ بنائے رکھا۔ 1977کے انتخابات میں دھاندلی کا ایسا شور تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنے احتجاج کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل دے دی جس کے نتیجے میں نہ صرف ذوالفقار علی بھٹوکا اقتدار ختم ہوگیا، بلکہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کر کے بھٹو کو ایک جھوٹے مقدمے میں عدالت عظمیٰ سے سزائے موت سنا دی گئی۔ جنرل ضیا نے تین ماہ (90دن) میں عام انتخابات کروا کے اقتدار منتخب نمایندوں کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا لیکن 11 سال یعنی اپنی مدت تک وہ اقتدار کے مالک بنے رہے۔ انتخابی دھاندلی کے نتیجے میں قوم کو 11 سال تک مارشل لا کا سامنا کرنا پڑا۔ منتخب وزیر اعظم کو پھانسی ہوئی اور جمہوریت کی ٹرین پٹری سے اتر گئی۔

پاکستان میں 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات بھی دھاندلی کے الزامات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے قومی اسمبلی کی 93 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کا اعزاز حاصل کر لیا لیکن حکومت بنانے میں ناکام رہے۔ پی پی پی اور (ن) لیگ نے مل کر مخلوط حکومت بنا لی۔

8 فروری کو پی ٹی آئی نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دی تھی۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہڑتال ناکام رہی، کہیں پہیہ جام نہیں ہوا۔ جب کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ کے پی کے اور بلوچستان میں ہڑتال خاصی کامیاب رہی۔ کہا جا رہا ہے کہ لاہورکو ہڑتال سے محفوظ رکھنے کے لیے عین ہڑتال والے دن سے دو روز پیشتر تین روزہ بسنت کا میلہ سجایا۔’’ بسنتی سیاست ‘‘ کے باوجود لاہور اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں کہیں کہیں ہڑتال کے اثرات پائے گئے جسے پی ٹی آئی اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے جب کہ حکومت اسے ناکامی سے تعبیر کر رہی ہے۔ ملک کو انتخابی دھاندلی کے منفی نتائج سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر جانبدار اور آزاد ادارہ بنایا جائے، مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ ’’ بسنتی سیاست‘‘ جیسے میلوں ٹھیلوں سے نہ نظام تبدیل ہوسکتا ہے نہ ہی جمہوریت مستحکم ہوسکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئین و قانون کی انتخابات میں الیکشن کمیشن دھاندلی کے پی ٹی آئی

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن