بی این پی کی بھاری اکثریت، طارق رحمان پر سب کی نظریں: کیا بنگلہ دیش میں نیا سیاسی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے 12 فروری کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی دو تہائی اکثریت نے ملکی سیاست میں ایک نئے دور کا اشارہ دے دیا ہے۔ طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی نہ صرف واضح پارلیمانی برتری حاصل کر چکی ہے بلکہ اب حکومت سازی کی پوزیشن میں بھی ہے۔
I extend my warmest felicitations to Mr.
I look forward to working closely with the…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) February 13, 2026
تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق اصل امتحان اقتدار حاصل کرنے کے بعد حکمرانی کے انداز کا ہوگا کہ آیا یہ اکثریت اصلاحات اور استحکام کا ذریعہ بنے گی یا ماضی کی سیاسی کشمکش کا تسلسل؟
دو تہائی اکثریت، آزادانہ حکومت کی راہ ہموارغیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے 200 سے زائد نشستیں حاصل کیں، جو واضح پارلیمانی اکثریت ہے۔ اس کامیابی کے بعد طارق رحمان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
तारिक रहमान की कहानी: मुल्क से बाहर काटे 17 साल, अब बनेंगे बांग्लादेश के प्रधानमंत्री#tariquerehman #bangladshelection #BNP https://t.co/aBYlQ800x7
— Jansatta (@Jansatta) February 13, 2026
ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق بی این پی نے اتنی نشستیں حاصل کر لی ہیں کہ وہ آزادانہ طور پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے، اگرچہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پارٹی نے 216 نشستوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔
پارٹی نے اپنی کامیابی کے بعد ملک بھر میں جمعہ کی نماز کے بعد خصوصی دعاؤں کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی قسم کی جشن ریلی یا عوامی اجتماع منعقد نہیں کیا جائے گا۔
عالمی ردعملامریکا، پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک نے بی این پی اور طارق رحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ عالمی برادری نے اس انتخاب کو بنگلہ دیش میں جمہوری عمل کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
Congratulations to the people of Bangladesh on a successful election and to the Bangladesh Nationalist Party and Tarique Rahman on your historic victory. The United States looks forward to working with you to realize shared goals of prosperity and security for both our countries.
— Ambassador Brent T. Christensen (@USAmbBangladesh) February 13, 2026
ڈیلی اسٹار کے تجزیے کے مطابق یہ بھاری اکثریت بی این پی کے لیے ایک ’لِٹمس ٹیسٹ‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی اس طاقت کو مشاورت، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے استعمال کرے گی یا سیاسی غلبے کے لیے؟ تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ پائیدار استحکام صرف عددی برتری سے نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور پارلیمانی مباحثے کے فروغ سے ممکن ہوگا۔
معیشت اور ادارہ جاتی اصلاحات بڑا چیلنجملک کو مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر، بینکنگ بحران اور سرمایہ کاری کے مسائل کا سامنا ہے۔ واضح اکثریت فوری فیصلوں کا موقع فراہم کرتی ہے، مگر طویل مدتی استحکام کے لیے مستقل مزاجی، اعتماد سازی اور سیاسی مفاہمت ناگزیر ہوگی۔
جولائی 2024 کی تحریک سے فروری 2026 کے انتخاب تکیہ انتخاب جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے بعد منعقد ہوا، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ اس دوران ملک میں سیاسی بے چینی اور احتجاج دیکھنے میں آئے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ انتخاب کو گزشتہ کئی برسوں میں پہلا حقیقی مسابقتی انتخاب قرار دیا جا رہا ہے۔
???????????????? President Asif Ali Zardari felicitates Tarique Rahman on BNP’s landslide victory and congratulates the people of Bangladesh on their successful, peaceful polls. Pakistan reaffirms strong support for democratic partnership and shared progress ahead. @trahmanbnp @bdbnp78
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) February 13, 2026
اب سوال یہ ہے کہ آیا طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی اس تاریخی موقع کو جمہوری استحکام اور معاشی بحالی میں تبدیل کر پائے گی یا نہیں۔ آنے والے چند ماہ اس اکثریت کی اصل سمت کا تعین کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بنگلہ دیش بی این پی پاکستان طارق رحمان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بنگلہ دیش بی این پی پاکستان بنگلہ دیش بی این پی کے مطابق کے بعد کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :