ایران پر امریکی حملے کا خدشہ، اسرائیل نے تیاری شروع کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق دفاعی اور ہنگامی اداروں کو ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو اس کے جواب میں ایران اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، قریبی بنکرز اور محفوظ مقامات سے باخبر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسرائیلی حکام نے سیکیورٹی اداروں کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کے لیے تمام انتظامات مکمل رکھنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر ملک بھر میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
اُدھر اسرائیلی اور امریکی حکام نے امریکی ویب سائٹ ایکسِیوس کو بتایا کہ جاری تیاریوں کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی ہے کہ سفارتی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ یہ کارروائی غالب امکان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ مہم ہو گی۔
رپورٹ کے مطابق اگر امریکا فوجی اقدام کرتا ہے تو وہ محض محدود نوعیت کا حملہ نہیں ہوگا بلکہ ہفتوں پر محیط ایک وسیع آپریشن ہو سکتا ہے، جو عملی طور پر ایک ہمہ گیر جنگ کے قریب ہوگا۔ اس کارروائی میں ایران کے جوہری اور میزائل تنصیبات کے ساتھ ساتھ نظام سے وابستہ سکیورٹی اداروں کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن سے موصول ہونے والی بعض اطلاعات کے مطابق حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا اور امریکی انتظامیہ کو مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔
امریکی ریپبلکن سینیٹر لِنڈسی گراہم کا کہنا ہے کہ ممکنہ حملے چند ہفتوں کے اندر ہو سکتے ہیں، تاہم ایکسِیوس کے مطابق بعض دیگر رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ مدت اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بیک وقت مذاکرات اور فوجی دباؤ کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
ٹرمپ کے مشیروں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکاف نے جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیا، تاہم امریکی حکام نے اعتراف کیا کہ اختلافات بدستور موجود ہیں۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے بعض سرخ لکیریں مقرر کی ہیں جنہیں تسلیم کرنے یا ان پر بات چیت سے تہران اب تک گریزاں ہے۔ نائب صدر نے اشارہ دیا تھا کہ صدر ٹرمپ کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ضرور ہیں، تاہم اگر نمایاں پیش رفت نہ ہوئی تو سفارت کاری اپنی فطری حد کو پہنچ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ مذاکرات کا حالیہ دور 6 فروری کو ہونے والے پہلے دور کے بعد منعقد ہوا، جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا، جبکہ تیسرا دور آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں ایران کے مطابق سکتا ہے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔