ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو دہشتگرد قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
وزارت خارجہ نے تاکید کی ہے کہ یہ اقدام اسلامی جمہوریہ ایران کے داخلی قانون کے دائرہ کار میں اور یورپی حکومتوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران یورپی یونین کے رکن ممالک کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف غیر قانونی اور غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف جوابی اقدامات کرے گا۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کے فیصلے کے جواب میں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ یورپی حکومتوں نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو، جو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی سرکاری شاخوں میں سے ایک ہے، دہشت گرد ادارہ قرار دیا ہے، اس لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے اپنے اصول پر مبنی کارروائی کرے گی۔
وزارت خارجہ نے 2019ء میں منظور ہونے والے قانون "امریکہ کی طرف سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے خلاف انتقامی اقدامات" کے آرٹیکل 7 کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام ممالک جو کسی بھی طرح سے اس سلسلے میں امریکہ کے فیصلے کی تعمیل یا حمایت کرتے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے اس اقدام سے مشروط ہوں گے۔
اس بیان کے مطابق اس قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور اس کی شقوں بشمول آرٹیکل 4 کا حوالہ دیتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ ایران یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو اس قانون کے تابع سمجھتا ہے اور ان کی شناخت اور دہشت گرد تنظیموں کے طور پر اعلان کرتا ہے۔ وزارت خارجہ نے آخر میں تاکید کی ہے کہ یہ اقدام اسلامی جمہوریہ ایران کے داخلی قانون کے دائرہ کار میں اور یورپی حکومتوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران کے یورپی یونین کے رکن ممالک قانون کے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز