بھارتی حکومت نے پہلگام حملے میں سکیورٹی کی ناکامی کا اعتراف کرلیا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 April, 2025 سب نیوز

بھارتی حکومت نے بند کمرا آل پارٹیز کانفرنس کے دوران پہلگام حملے میں سکیورٹی کی ناکامی کا اعتراف کرلیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمراں جماعت کے ایک رہنما نے مبینہ طور پر اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے رہنماؤں سے کہا کہ اگر کچھ غلط نہیں ہوا ہوتا، تو ہم یہاں کیوں بیٹھے ہوتے؟ کہیں نہ کہیں کوتاہیاں ہوئی ہیں جن کا ہمیں پتہ لگانا ہے۔

بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد حزب اختلاف کے رہنماؤں کو بریفنگ دینے کے لیے کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا۔

اجلاس کے دوران متعدد اپوزیشن جماعتوں نے سیکیورٹی پروٹوکول کی بظاہر ناکامی کے بارے میں سوالات پوچھے، انڈیا ٹوڈے کے ذرائع کے مطابق کئی رہنماؤں نے پوچھا کہ سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں؟ سینٹرل ریزرو پولیس فورس کہاں تھی؟ ۔

اس کے جواب میں حکومت نے مبینہ طور پر کہا کہ مقامی حکام نے ضلع اننت ناگ میں پہلگام کے قریب بیسرن علاقے کو کھولنے سے پہلے سیکورٹی ایجنسیوں کو مطلع نہیں کیا تھا، جو عموماً جون میں امرناتھ یاترا تک محدود رہتا ہے۔

اس واقعے پر تاخیر سے ردعمل کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، سرکاری حکام نے وضاحت کی کہ جائے وقوعہ 45 منٹ کی پیدل مسافت پر تھی اور اس طرح کی ہنگامی صورتحال سے تیزی سے نمٹنے کے لیے کوئی معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) موجود نہیں تھا۔

اجلاس کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ہے کہ بھارت کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑنا چاہیے۔

کرن رجیجو کے مطابق تمام جماعتوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس لڑائی میں حکومت کے ساتھ ہیں اور تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک آواز میں کہا ہے کہ حکومت جو بھی قدم اٹھائے گی وہ اس کی حمایت کریں گے۔ رجیجو نے کہا کہ اجلاس مثبت انداز میں اختتام کو پہنچا۔

کل جماعتی اجلاس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر خارجہ ایس جئے شنکر، وزیر خزانہ نرملا سیتارامن اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے حکومت کی نمائندگی کی۔

راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں راجیہ سبھا میں قائد ایوان جے پی نڈا، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے شرکت کی۔

اپوزیشن کی جانب سے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اسد الدین اویسی، عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ، ترنمول کانگریس کے سدیپ بندو پادھیائے، سماجی وادی پارٹی کے رام گوپال یادو اور دیگر نے شرکت کی۔

دریں اثنا لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن نے جموں و کشمیر میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے جواب میں کوئی بھی کارروائی کرنے کے لئے مرکزی حکومت کی مکمل حمایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سبھی نے پہلگام حملے کی مذمت کی، راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن نے کسی بھی کارروائی کے لیے حکومت کی مکمل حمایت کی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا امریکا نے بھارت میں موجود اپنے شہریوں کے لیے الرٹ جاری کردیا بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے پہلگام حملے کو سکیورٹی کی خامی قرار دیدیا،تحقیقات کا مطالبہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا بڑے پیمانے پر کریک ڈاون، 1500سے زائد کشمیری گرفتار پاکستان نے بھارتی پروازوں کیلئے فضائی حدود ایک ماہ کیلئے بند کردی، نوٹم جاری بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، احتجاجی مراسلہ تھما دیا گیا، سفارتی ذرائع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بھارتی حکومت نے نے پہلگام حملے سکیورٹی کی حملے میں

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت