بھارت نے بھی پاکستان کیلئے اپنی فضائی حدود بند کردیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
نیودہلی (اوصاف نیوز)بھارت نے پاکستان کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔بھارتی حکومت نے پاکستان کے لیے فضائی بندش کا نوٹم جاری کر دیا ہےجس کے مطابق آج سے 23 مئی تک بھارتی فضائی حدود تمام پاکستانی طیاروں کے لیے بند رہیں گی۔
قومی ائیرلائن پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے احتیاط کے طور پر پہلے ہی بھارتی فضائی حدود کا استعمال روک چکی ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے پہلگام حملے کو جواز بناکر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہد معطل کرنے کے اعلان پر پاکستان نے بھارتی ائیرلائنز کیلئے اپنے فضائی حدود بند کردی تھیں۔پاکستان کی فضائی حدود کی اچانک بندش سے بھارتی ائیر لائنز کو ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے۔
صوابی اور بنوں میں دہشت گردی کے واقعات، 3 اہلکار شہید، 5 افراد زخمی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :