ڈے اولڈ چکس کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ؛ کمپیٹیشن کمیشن نے آٹھ بڑی ہیچری کمپنیوں پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے مرغی کے ایک دن کے چوزوں (ڈے اولڈ برائلر چکس) کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ ثابت ہونے پر آٹھ بڑی بریڈر ہیچری کمپنیوں پر مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ مئی 2021 میں شروع کی گئی انکوائری اور بعد ازاں جاری کردہ شوکاز نوٹسز کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آیا۔ انکوائری کا آغاز پاکستان سٹیزن پورٹل اور کمیشن کے آن لائن پلیٹ فارم پر موصول شکایات کی بنیاد پر کیا گیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کچھ بڑی ہیچری کمپنیاں آپس میں ملی بھگت سے چوزوں کی قیمتوں کا تعین کر رہی ہیں۔
کمیشن کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ صادق پولٹری، ہائی ٹیک گروپ، اسلام آباد گروپ، اولمپیا گروپ، جدید گروپ، سپریم فارمز (سیزنز گروپ)، بگ برڈ گروپ اور صابری گروپ نے 2019 سے جون 2021 کے دوران کارٹل بنا کر قیمتوں میں مصنوعی اضافافہ کرتے رہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق کہ مارچ 2020 سے اپریل 2021 کے درمیان چوزے کی قیمت میں 346 فیصد اضافہ ہوا، یعنی یہ قیمت 17.
گٹھ جوڑ کے ثبوت اور طریقہ واردات
• مختلف ہیچری کمپنیوں نے مل کر کارٹل بنایا اور ‘چِک ریٹ اناؤنسمنٹ’ کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا، جس کی نگرانی بگ برڈ گروپ کے ایک سینئر عہدیدار کر رہے تھے۔
• ڈاکٹر شاہد (بگ برڈ گروپ) روزانہ کی بنیاد پر اگلے دن کے نرخ تیار کر کے دیگر ارکان کے ساتھ شیئر کرتے، یہ نرخ ہر شام ٹیکسٹ میسج یا واٹس ایپ کے ذریعے گروپ کے تمام ممبران کو بھیجے جاتے تھے۔
• پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی ہیچری افیئرز کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالکریم اور سیکریٹری جنرل سید جاوید حسین بخاری بھی اس واٹس ایپ گروپ میں شامل تھے۔
• گروپ کے ارکان نے 2019 سے 2021 کے دوران تقریباً 198 بار اگلے دن کی قیمتیں شیئر کیں۔ ان میں سے 108 بار قیمتوں سے متعلق حساس معلومات کا تبادلہ ٹیکسٹ میسج کے ذریعے جبکہ 87 بار واٹس ایپ پر کیا گیا۔
• ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیداران نے گروپ میں ہونے والی قیمتوں کی شیئرنگ کا نوٹس لینے کے بجائے اس ملی بھگت میں معاونت فراہم کی۔
• کارٹل کی جانب سے پنجاب میں روزانہ ایک ہی ریٹ جاری کیا جاتا، جبکہ ملتان اور کراچی کے لیے قیمتوں میں معمولی رد و بدل شامل کیا جاتا۔
• مارچ 2020 سے اپریل 2021 کے دوران ایک دن کے چوزے کی قیمت میں 346 فیصد اضافہ ہوا، جو 17.92 روپے سے بڑھ کر 79.92 روپے تک جا پہنچی۔
واضح رہے کہ صادق پولٹری اور اسلام آباد فیڈز نے کمٹیشن کمیشن کے شوکاز نوٹسز کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم عدالت نے نومبر 2024 میں کمیشن کو کارروائی مکمل کرنے کا اختیار برقرار رکھا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد کمیشن نے تمام فریقین کو سنا اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔
کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے واضح کیا ہے کہ ٹریڈ ایسوسی ایشنز کا مقصد کارٹل سازی یا قیمتوں کے تعین میں شراکت داری نہیں ہونا چاہیے۔ آزاد اور منصفانہ مسابقتی ماحول کی بقا کے لیے قیمتوں کا تعین صرف طلب اور رسد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
کمیشن نے حال ہی میں چکن کی قیمتوں میں اضافے کا بھی نوٹس کیا ہے جن کے مطابق بعض ہیچریز دوبارہ گٹھ جوڑ میں ملوث ہیں اور چوزے کی قیمت 198 روپے فی چوزہ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ منصفانہ قیمت تقریباً 78 روپے بنتی ہے۔ کمیشن اس حوالے سے اقدامات لے رہا ہے۔
کمٹیشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مسابقتی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کمیشن کے شکایت پورٹل پر شواہد کے ساتھ رپورٹ کریں۔ شکایت کنندہ کی شناخت کو مکمل رازداری میں رکھا جائے گا۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں کی بنیاد پر کمیشن کے واٹس ایپ گٹھ جوڑ کی قیمت
پڑھیں:
پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
اسلام آباد: پاکستان میں سریے کی قیمت جمعرات 23 جولائی 2026 کو مجموعی طور پر مستحکم رہی، تاہم مختلف برانڈز اور گریڈز کے لحاظ سے معمولی فرق دیکھا گیا۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے جاری کردہ تازہ مارکیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق ملک بھر میں سریے کی قیمت 258 روپے سے 265 روپے فی کلوگرام کے درمیان برقرار ہے۔
تعمیراتی ماہرین کے مطابق رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں سب سے زیادہ گریڈ 40 اور گریڈ 60 سریا استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ مضبوطی اور معیار کے لحاظ سے موزوں تصور کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں سریے کے تازہ ریٹس
سریے کا گریڈ قیمت (روپے فی کلوگرام)
گریڈ 40 260 روپے
گریڈ 60 265 روپے
مارکیٹ ریٹ 258 سے 265 روپے
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سریے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کئی عوامل سے متاثر ہوتا ہے، جن میں خام مال کی قیمت، بجلی اور گیس کے نرخ، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور تعمیراتی شعبے کی مجموعی طلب شامل ہیں۔
انہوں نے خریداروں اور بلڈرز کو مشورہ دیا ہے کہ بڑی مقدار میں سریا خریدنے سے قبل مقامی ڈیلرز سے تازہ نرخ ضرور معلوم کریں، کیونکہ مختلف شہروں، برانڈز اور مینوفیکچررز کے لحاظ سے قیمتوں میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔
تعمیراتی صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر خام مال یا توانائی کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو آئندہ دنوں میں پاکستان میں سریے کی قیمت بھی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہے۔