بھارتی فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
حملوں پر بیان جاری کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی قوانین کے مطابق بھارتی ’جارحیت‘ کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے جس کے لیے وقت اور مقام کا تعین وہ خود کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں حملوں پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالمی قوانین کے مطابق بھارتی ’جارحیت‘ کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے جس کے لیے وقت اور مقام کا تعین وہ خود کرے گا۔ دفتر خارجہ نے منگل کی شب حملے کے بعد ایک بیان جاری کیا جس کا ترجمہ ذیل میں ہے۔ بلا اشتعال اور کھلی جنگی جارحیت کے اقدام میں، بھارتی فضائیہ نے بھارت کی فضائی حدود کے اندر رہتے ہوئے اسٹینڈ آف ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتی حملے میں بین الاقوامی سرحد پار کرتے ہوئے مریدکے اور بہاولپور کے علاقوں، جبکہ لائن آف کنٹرول کے پار آزاد جموں و کشمیر کے علاقوں کوٹلی اور مظفرآباد میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارت کی اس جارحیت کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری شہید ہوئے۔ اس حملے سے تجارتی فضائی پروازوں کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ہم بھارت کے اس بزدلانہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں، جو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور ریاستوں کے مابین تعلقات کے طے شدہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پہلگام حملے کے پس منظر میں بھارتی قیادت نے ایک بار پھر دہشت گردی کے مفروضے کو استعمال کر کے مظلومیت کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، جو کہ خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔ بھارت کی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت نے دو ایٹمی طاقتوں کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 اور بین الاقوامی قانون میں دیے گئے حقوق کے مطابق، وقت اور مقام کا تعین خود کرے گا اور مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاکستان کی حکومت، مسلح افواج اور عوام بھارتی جارحیت کے خلاف متحد ہیں، اور وہ ہمیشہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے فولادی عزم کے ساتھ عمل کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ بھارت کی کے لیے
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ