پہلگام ڈراما کامیاب کرنے کے لیے مودی نے کیا اقدامات کیے، بھارتی فوجی نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
مودی کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر سابق بھارتی فوجی نے دھماکہ خیز انکشافات کردیے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملے کی تحقیقات سے قبل بھارت پاکستان پر حملہ کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب
ذرائع کے مطابق جعلی پہلگام حملے کے ناقابل تردید شواہد منظر عام پر جس کے باعث مودی پر تنقید کے وار کا آغاز ہوگیا ہے کیوں کہ ایک سابق بھارتی فوج کے اہلکار نے مودی کے فالس فلیگ ڈراموں سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
یاد رہے کہ مودی حکومت نے 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے واقعے کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف جارحیت کا آغاز کردیا تھا جس پر پاکستان کی جانب سے معرکہ حق اور اس کے اہم حصے آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیا گیا جس نے دشمن کے دانت کھٹے کردیے۔
مزید پڑھیے: پہلگام حملہ: بھارت کی سفارتی تنہائی، پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم
پاکستان کی جانب سے بڑے تحمل کے بعد ٹھوک بجا کر جواب سے بھارت اور اس کی افواج کو منہ کی کھانی پڑی اور اب دشمن کی جانب سے جنگ سے ہاتھ اٹھاتے ہوئے امریکا سے ثالثی کی درخواست کی گئی ہے۔
مودی کو کھری کھری سناتے ہوئے سابق بھارتی فوجی نے انکشاف کیا کہ اس نے 18 سال بھارتی فوج میں خدمات انجام دیں اور پہلگام میں بھی تعینات رہا۔
سابق فوجی کا کہنا ہے کہ پہلگام میں آرمی، سی آر پی ایف اور بی ایس ایف کی 3 چیک پوسٹیں ہوتی تھیں اور بغیر مکمل تفتیش وہاں کسی کا داخلہ ناممکن تھا۔
اہلکار نے کہا کہ فوجی بھی تلاشی کے بغیر داخل نہیں ہو سکتے تھے اور سیکیورٹی فول پروف تھی۔
چیک پوسٹس ختم کیسے ہوئیں؟سابق فوجی اہلکار نے کہا کہ امیت شاہ نے ایک ہفتہ قبل اچانک دورے کے بعد تمام چیک پوسٹیں ختم کرنے کا حکم دیا جس کے محض ایک ہفتے بعد پہلگام حملہ ہو گیا، کیا یہ محض اتفاق ہوسکتا ہے۔
اہلکار نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی کی پشت پناہی مودی اور امیت شاہ کرتے ہیں اور یہ دونوں اور آر ایس ایس پہلگام جیسے جعلی حملوں کے اصل ماسٹر مائنڈز ہیں۔
مزید پڑھیں: معرکہ بنیان مرصوص کی تکمیل پر آئی ایس پی آر کی جانب سے خصوصی نغمہ جاری
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجی کے انکشافات نے مودی کے فالس فلیگ نیٹ ورک کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ مودی سرکار انتخابی فائدے کے لیے ملک کو خون میں نہلانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن بنیان مرصوص پاک بھارت کشیدگی پہلگام ڈراما معرکہ حق مودی کا فالس فلیگ آپریشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن بنیان مرصوص پاک بھارت کشیدگی پہلگام ڈراما معرکہ حق مودی کا فالس فلیگ ا پریشن بھارتی فوجی کی جانب سے اہلکار نے فالس فلیگ نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔