اسلام آباد ( نیوز    ڈیسک ) سیکرٹری داخلہ محمدخرم آغا نے کہا کہ خضدار میں دہشتگردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا،خضدار میں بزدلانہ حملے میں چھ بچے شہید ہوئے۔ دہشتگردوں نے سکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق فتنہ الہندوستان اس حملے میں ملوث ہے۔ فتنہ الہندوستان نے امن کو سبوتاژ کیا ہے۔ واقعہ میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے گا۔ وہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے سکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ سکول بس پر نہیں ہماری اقدار پر تھا۔ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، غم میں برابر کے شریک ہیں۔ خضدارسکول بس حملے میں بھارت ملوث ہے،بھارت بلوچستان میں پراکسیز کے ذریعے دہشتگردانہ کارروائیاں کرارہاہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت گزشتہ بیس سال سے ریاستی دہشتگردی کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے.


2009میں پاکستان نےبلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کا ڈوزیئر اقوام متحدہ میں پیش کیا۔ 2016 میں بھی بھارت کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شواہد دنیا کے سامنے رکھے۔ بھارت دہشتگردوں کوفنڈز فراہم کرتا ہے۔ مختلف گرفتار دہشتگردوں نے بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیا ہے۔ بھارت خطے میں امن کو سبوتاژکررہاہے۔ بھارت دہشتگردوں کوفنڈز فراہم کرتا ہے۔ مکتی باہنی کاقیام،سقوط ڈھاکہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ کئی بچے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ کلبھوشن یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں تمام تر حقائق بتائے۔ فتنہ الہندوستان خضدار میں بچوں کی شہادتوں میں ملوث ہے۔ بھارت دہشتگردوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا دہشتگرد ملک ہے۔
مختلف گرفتار دہشتگردوں نے بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیا ہے۔ فتنہ الہندوستان خضدار میں بچوں کی شہادتوں میں ملوث ہے۔ یہ ہے بھارت کا دہشتگرد چہرہ۔ یہ وہ بچے ہیں جنہیں21مئی کو بھارت کے حکم پر دہشتگردی کانشانہ بنایاگیا۔ فتنہ الہندوستان جان بوجھ کر معصوم اور نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنارہاہے۔ فتنہ الہندوستان نے بلوچستان میں نہتے مزدوروں کا قتل عام کیا ۔ فتنہ الخوارج نے 21مزدوروں کا قتل عام کرایا۔
فتنہ الہندوستان نے کیچ میں 2درزیوں کو قتل کرایا۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں محنت مزدوری کرنیوالے افراد کو قتل کرایاجارہاہے۔ فتنہ ا لہندوستان نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کرایا۔ چھ اور7مئی کو فتنہ الہندوستان کا اصل باپ دہشتگردی کرتا ہے۔ چھ اور 7مئی کو 40معصوم پاکستانیوں کو شہید کیاگیا۔ بنیان مرصوص میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ بھارت خطے میں امن کو سبوتاژکررہاہے۔ بھارت دہشتگردوں کوفنڈز فراہم کرتا ہے۔ مکتی باہنی کاقیام،سقوط ڈھاکہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔
دہشتگردوں کے عزائم کا میاب نہیں ہونے دیں گے۔ 12اپریل 2024 میں مزدوروں کوشہید کیاگیا۔ 9مئی2024 کو 7حجاموں کو دوران نیند قتل کیاگیا۔ بچوں پر حملہ فتنہ الہندوستان کامکروہ چہرہ ہے۔ 12اپریل2024کو12مزدوروں کوشہیدکیاگیا۔ 28اپریل2024کوکیچ میں2مزدوروں کوشہیدکیاگیا۔ 10اکتوبر2024کودکی کے کوئلہ کان میں مزدورں کوشہیدکیاگیا۔ 10فروری 2025کوکیچ میں 2درزیوں کوشہیدکیاگیا۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں محنت مزدوری کرنیوالے افراد کو قتل کرایاجارہاہے۔ فتنہ الہندوستان نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کرایا۔ خضدار بس حملے میں 6بچے شہید،51زخمی ہیں۔ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد حیوانیت پر اترآئے ہیں۔ فتنہ الہندوستان نے 21مزدوروں کا قتل عام کرایا۔ پہلگام کے بعد ہر فورم پر پاکستان نے بھارت سے ثبوت مانگے۔ پریس کانفرنس میں بھارتی میجر سندیپ کی آڈیو بھی سنائی پاکستان بھارت سے پہلگام واقعے کے ثبوت مانگ رہاہے۔
پاکستان نے میڈیا کو تمام وہ جگہیں دکھائیں جن سے متعلق بھارت نے الزام لگایا۔ بھارت انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہاہے۔ بھارت کی جانب سےبارڈر کراس کرنے پر 71دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ دہشتگردوں کو جدید ہتھیاراور آلات بھارت خرید کردے رہاہے۔ 19فروری2025کوبارکھان میں مزدوروں کوبس سے اتارکرشہیدکیاگیا۔ 11مارچ کوجعفرایکسپریس حملے میں نہتے شہریوں کوشہیدکیاگیا۔
خضدار حملے میں 51زخمی ہیں جن میں زیادہ تربچے ہیں۔ 9مئی2025کولسبیلہ میں 3حجاموں کوشہیدکیاگیا۔ یہ دہشتگردی کررہے ہیں لیکن عوام کا عزم نہیں توڑ پارہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کافتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے پاس مہنگے ترین ہتھیاروں کی موجودگی پر بھی سوالات ۔ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں سے مہنگااسلحہ برآمد ہورہاہے۔ دہشتگردوں کومہنگااسلحہ کون خریدکردے رہاہے؟ جعفرایکسپریس حملے کے دوران بھارتی سوشل میڈیا پر جشن منایاگیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جعفرایکسپریس حملے کے دوران بھارتی میڈیاکاکردار بھی بے نقاب کردیا ۔ بھارتی میڈیاجھوٹ پھیلانے میں ملوث ہے۔ میڈیا نمائندوں کو بھارتی میجرسندیپ کی گرفتاردہشتگردسے گفتگو بھی سنائی گئی بھارتی میجرسندیب آڈیو میں بتارہاہے کہ پیسوں کی منتقلی کیسے ہوگی ۔ میجرسندیپ کے بیان سے واضح ہوابھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔
6 اور7مئی کی رات بھارت نے پاکستان پرحملہ کیا۔ انٹرنیشنل میڈیا نے ان مقامات کادورہ کیا۔ میڈیا کو ان مقامات پر ایسی کوئی سرگرمی نظرآئی جومشکوک ہو؟ بھارت بتائے کن ثبوتوں پر پاکستان میں ان مقامات کونشانہ بنایا۔ پہلگام واقعے کے بعد ہرفورم پر بھارت سے ثبوت مانگے۔ کراچی میں چینی باشندوں پر حملے میں بھی بھارت ملوث ہے۔ بھارتی میڈیا پربیٹھ کر پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کیاجاتا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعہ پر بھارت میں جشن منایاجاتا ہے۔ بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر پاک فوج کے افسران وجوانوں کے سروں کی قیمتیں لگائی جاتی ہیں۔
دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ بھارت اور فتنہ الہند کا مکروہ چہرہ ہے۔ بی ایل اے کے دہشتگرد بھارتی چینلز پر پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ سب نے دیکھ لیا کہ پاکستان کا میڈیا بھارتی میڈیا سے زیادہ آزاد ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج سینہ تان کرکھڑی ہیں۔ 11مئی کوفتنہ الہندوستان نے ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں کہاگیاکہ بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو یہ بھارت کے ساتھ مل کرلڑیں گے۔
کیاان کی بزدلانہ کارروائیوں سے ہم ڈرجائیں گے،بالکل نہیں۔ بھارتی ریٹائرڈ جنرل چیخ رہا ہے کہ بلوچستان بلوچستان۔ یہ ہے وہ فتنہ الہندوستان، یہ ہیں ان کے ماسٹرز۔ یہ کہہ رہا ہے کہ کچھ کرو، بچوں کومارو، کچھ کرو۔ پوری دنیادیکھ رہی ہے کہ دہشتگردکون ہے۔ بھارت ڈرامہ کررہاہے کہ پاکستان سے دہشتگردی ہورہی ہے۔ بھارت اپنی دہشتگردی پر پردہ ڈالنے کیلئے یہ کررہاہے۔ بھارت کے اندر سے سوالات آرہے ہیں کہ سیکیورٹی فیلیئرہوگیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر فتنہ الہندوستان نے بھارت دہشتگردوں کو فراہم کرتا ہے بھارتی میڈیا دہشتگردوں نے میں ملوث ہے کے دہشتگرد بھارت کے حملے میں پر حملہ فتنہ ا امن کو

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار