ہواوے کا ہارمونی او ایس ترقی پذیر ممالک کو “ڈیجیٹل اعتماد” فراہم کرتا ہے ، چینی میڈیا

بیجنگ :

اگر موبائل اور کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز کو ڈیجیٹل دنیا کی “بنیاد” سمجھا جائے، تو گزشتہ کئی سالوں سے یہ بنیادیں زیادہ تر امریکی کمپنیوں کے ہاتھوں تعمیر ہوئی ہیں: موبائل کے لیے اینڈرائیڈ، کمپیوٹرز کے لیے ونڈوز، اور ایپل کا آئی او ایس۔ لیکن ان نظاموں کے پیچھے چھپے خطرات ایک تلوار کی مانند ہیں جو کسی بھی لمحے گر سکتی ہے، اور کسی بھی حفاظتی شعور رکھنے والے فرد کی نیند حرام کر دیتی ہے۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ اجارہ داری کے تحت معلوماتی سلامتی کے بحران کے آثار بار بار سامنے آ چکے ہیں: گزشتہ سال جولائی میں مائیکروسافٹ کے بلیو اسکرین واقعے نے عالمی آئی ٹی نظام کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک اور خطوں کے ایوی ایشن سسٹم، بینکنگ سسٹم اور سپر مارکیٹ سسٹم متاثر ہوئے اور یہاں تک کہ”مفلوج” ہو گئے۔ تصور کریں کہ اگر یہ مختصر بحران کسی انسانی ساختہ سائبر جنگ کی مشق ہوتی؟ اگر کسی دن آپ کا یا آپ کی حکومت کا بینک اکاؤنٹ یکدم صفر ہو جائے؟ ایسا سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔
جب آپ کے پاس انتخاب کا موقع ہی نہ ہو، تو کسی حق یا آزادی کی بات کرنا بے معنی ہے۔ لیکن اب دنیا کے پاس ایک نیا انتخاب موجود ہے: چین کی ہواوے کمپنی کا ہارمونی او ایس۔ 24 مئی 2025 کو شینزین میں اوپن سورس ہارمونی ڈویلپر کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں اوپن سورس ہارمونی سسٹم کی ترقی کی تازہ ترین پیش رفت پر روشنی ڈالی گئی۔ گزشتہ خزاں جب ہواوے نے نیا ہارمونی سسٹم ہارمونی او ایس جاری کیا تو بہت سے چینیوں کی آنکھیں مسرت کے باعث بھیگی ہوئی تھیں۔ اس بظاہر عام سے آپریٹنگ سسٹم کے لانچ کے پیچھے کتنی محنت اور تکلیفیں چھپی ہیں، اور اس نے چین اور دنیا کو کیا دیا ہے؟
2012 میں، چین کی ہواوے کمپنی نے اپنا آپریٹنگ سسٹم تیار کرنا شروع کیا۔ اس وقت اینڈرائیڈ، ونڈوز اور آئی او ایس عالمی منڈی پر اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے تھے، اور کسی نئے نظام کے لیے مارکٹ میں داخلے کی کوشش کرنا انتہائی مشکل تھا۔ 2019 میں، امریکہ نے اچانک ہواوے پر اینڈرائیڈ کی بنیادی سروسز پر پابندی لگا دی۔ ایک رات کے اندر ہواوے کے بیرون ملک فروخت ہونے والے فونز گوگل میپس، جی میل جیسے عام سافٹ ویئرز استعمال کرنے کے قابل نہ رہے، جس سے کمپنی کو شدید دھچکا لگا۔ اس واقعے نے چینیوں کو یہ سمجھا دیا کہ دوسروں کی چیز چاہے کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، اگر اس کی چابی آپ کے پاس نہیں ہے، تو کسی بھی وقت آپ کو باہر کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے ہواوے نے ہارمونی سسٹم کی ترقی کو تیز کر دیا۔ اس مقصد کے لیے ہواوے نے کئی بلین ڈالرز تحقیق و ترقی پر خرچ کیے، ہزاروں سائنسدانوں اور انجینئرز کی ٹیم نے دن رات محنت کی، اور تب جا کر ہارمونی کا ظہور ممکن ہوا۔ ہارمونی نے چین کو اپنی حقیقی خودمختار “ڈیجیٹل بنیاد” فراہم کی ہے۔ طویل مدتی نقطہ نظر سے، ہارمونی پوری چینی سافٹ ویئر انڈسٹری کو ابھارنے کا باعث بنے گا، اور چینی کمپنیوں کے لیے غیر ملکی نظاموں کے لیے “مزدوری” کرنے کے دن ختم ہو جائیں گے۔
امریکہ کی طویل عرصے سے چلنے والی آپریٹنگ سسٹمز کی اجارہ داری میں، ترقی پذیر ممالک کو ان نظاموں پر انحصار کرنے کے لیے بھاری پیٹنٹ فیس ادا کرنی پڑتی ہے یا پھر انہیں ٹیکنالوجی کا پابند بنایا جاتا ہے۔ ہارمونی ایک اوپن سورس سسٹم ہونے کی وجہ سے مفت میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ترقی پذیر ممالک کو ٹیکنالوجی کے اخراجات میں بچت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مزید برآں، وہ ہارمونی کی بنیاد پر اپنی ضروریات کے مطابق شعبہ جاتی حل (جیسے زرعی انٹرنیٹ آف تھنگز، اسمارٹ شہر) تیار کر سکتے ہیں، جس سے ان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار تیز ہو گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہارمونی سسٹم نے ترقی پذیر ممالک کو سیاسی خطرات سے بچنے اور اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنانے کا اعتماد دیا ہے۔ یہ نظام ان ممالک کو ایک “متبادل آپشن” فراہم کرتا ہے، جس سے بین الاقوامی تنازعات میں “کسی ایک طرف” کھڑے ہونے کی مجبوری کم ہو جاتی ہے۔ ہارمونی نے عالمی سطح پر کثیر قطبی ٹیکنالوجی کے ماحول کو وسعت دی ہے، نظامی خطرات کو کم کیا ہے، عالمی نیٹ ورک کی لچک کو بڑھایا ہے، اور گوگل، مائیکروسافٹ اور ایپل جیسی کمپنیوں کو اپنی رازداری کی پالیسیوں کو بہتر بنانے پر مجبور کیا ہے، جس سے بالواسطہ طور پر صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے معیار میں اضافہ ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہارمونی محض ایک آپریٹنگ سسٹم کا متبادل نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی ڈیجیٹل حکمرانی کو کثیر قطبی بنانے کی ایک اہم قوت ہے۔ اس کی کامیابی اس کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر اور بین الاقوامی تعاون کی گہرائی پر منحصر ہے۔ مستقبل میں ہارمونی کو شاید لا تعداد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے، لیکن اس نے پہلا اور سب سے مشکل قدم اٹھا لیا ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ترقی پذیر ممالک کو ہارمونی او ایس ہارمونی سسٹم آپریٹنگ سسٹم کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس