الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر ملازمین کو 20 فیصد الیکشن الاؤنس دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
الیکشن کمیشن سے متعلق سال 2013-14کے آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے دوران آڈٹ حکام نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کی منظوری کے بغیر ملازمین کو 20 فیصد الیکشن الاؤنس دیا۔
رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے ملازمین کو غیر مجاز طور پر رننگ بیسک پے کا 20 فیصد الیکشن الاؤنس دیئے جانے سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا۔
آڈٹ حکام نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ملازمین کو یکم مارچ 2013 سے رننگ بیسک پے کا 20 فیصد الیکشن الاؤنس ادا کیا، الاؤنس وزیراعظم کی جانب سے منظور شدہ نہیں تھا ،نہ ہی فنانس ڈویژن کے ریگولیشنز ونگ کی جانب سے اس کی توثیق کی گئی۔
آڈٹ حکام کے مطابق معاملہ ابھی سپریم کورٹ کی زیر سماعت ہے، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ ای سی پی کے فیور میں دیا، ملازمین کو 20 فیصد الاؤنس مل رہا ہے، کوئی اسٹے آرڈر سپریم کورٹ کی طرف سے نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ ملازمین 20 فیصد الاؤنس لے رہے ہیں،حکام کے مطابق ہائیکورٹ کے فیصلے اور وزیراعظم کی سمری کے مطابق ملازمین الاؤنس کے حقدار ہیں، 20 فیصد الاؤنس تنخواہ کا حصہ ہے۔
آڈٹ حکام نے کہا کہ معاملہ جائزہ و عملدرآمد کمیٹی کو بھیج دیں، پھر سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا، اس پر عملدرآمد کریں۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان الیکشن کمیشن نے حکام نے کہا کہ ملازمین کو آڈٹ حکام کے مطابق
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔