کراچی:

سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے محکمہ محنت سندھ کے ادارے سیسی کے اسپتالوں کے لیے غیر معیاری ادویات اور مشینری کی خریداری میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کی شکایات پر سیسی کے 7 اسپتالوں اور 42 ڈسپنسریز کے لئے سالانہ 9 ارب روپے کے ادویات کی خریداری کی آڈٹ کا حکم دے دیا۔

بدھ کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوشن (سیسی) کے سال 2018ء اور 2019ء کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری محکمہ محنت رفیق قریشی، کمشنر سیسی میانداد راہوجو سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے سیسی حکام سے استفسار کیا کے سیسی کے زیرانتظام کتنے اسپتال کام کررہے ہیں؟ اور ان اسپتالوں کے لئے ادویات کی خریداری پر کتنا خرچ ہورہا ہے؟

سیسی کمشنر میانداد نے پی اے سی کو بتایا کے سیسی کے زیرانتظام ولیکا اسپتال، لانڈھی اسپتال اور کڈنی سینٹر سمیت سندھ بھر میں 7 بڑے اسپتال اور 42 ڈسپنسریز کام کر رہی ہیں، سیسی کے اسپتالوں اور ڈسپنسریز میں صنعتی ورکرز اور سیسی ملازمین علاج کراتے ہیں، 13 ارب روپے کے فنڈ سے سیسی کے اسپتالوں اور ڈسپنسریز کے لئے ادویات کی خریداری  ہوئی اور ہیلتھ کیئر سروسز پر سالانہ 70 فیصد فنڈ یعنی 9 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں جبکہ تیس فیصد فنڈ یعنی 4 ارب روپے سیسی کے فیلڈ ڈائریکٹرز پر خرچ ہو رہے ہیں۔

پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے کہا کے سیسی کے اپستالوں میں ادویات کی خریداری پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں جس کے باوجود سیسی کے اسپتالوں میں غیر معیاری ادویات فراہم ہونے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

کمشنر سیسی نے بتایا کے سیسی کے اسپتالوں کے لئے 70 فیصد ادویات کی خریداری ٹینڈرز کے ذریعے کی جا رہی ہے اور 30 فیصد خریداری مقامی سطح پر ڈائریکٹرز کرتے ہیں جہاں پر ادویات کی خریداری میں ایشوز ہیں،ان اسپتالوں کو بہتر چلانے کے لیے ہاسپٹل مینجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جب کہ ولیکا اسپتال کے انفرااسٹرکچر اور عمارت کے لئے سیسی گورننگ باڈی نے 1.

4 ارب روپے کا منصوبہ منظور کیا ہے جس پر کام کا آغاز ایک سال کے اندر شروع ہوگا۔

نثار کھوڑو نے کہا کے محکمے اور ورکر کلاس کی بہتری کے لئے ریفارمز لانا محکمہ کی ذمہ داری ہے،  پی اے سی نے محکمہ محنت سندھ کے ادارے سیسی کے اسپتالوں کے لئے غیر معیاری ادویات اور مشینری کی خریداری میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کی شکایات پر سیسی کے 7 ہستالوں اور 42 ڈسپینسریز کے لئے سالانہ 9 ارب روپے کے ادویات کی خریداری کی آڈٹ کا حکم دے دیا۔

پی اے سی کی سیسی کو صنعتوں میں کم از کم اجرت 37 ہزار کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت

پی اے سی اجلاس میں 80 فیصد نجی صنعتی یونٹس میں ورکرز کو کم ازکم اجرت ماہانہ 37 نہ دینے کا انکشاف سامنے آیا۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے استفسار کیا کہ سیسی میں کتنے صنعتی یونٹس اور کتنے ورکرز رجسٹرڈ ہیں اور کتنے صنعتی ادارے کم از کم اجرت کے قانون پر عمل نہیں کررہے۔

کمشنر سیسی نے بتایا کہ 67 ہزار صنعتی یونٹس میں سے سیسی میں 24 ہزار یونٹس رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 6 ہزار صنعتی یونٹس بند پڑے ہیں جب کہ 18 ہزار صنعتی یونٹس فنکشنل ہیں جن کے 8 لاکھ ورکرز کو سیسی میں رجسٹرڈ کیا گیا ہے جبکہ متعدد صنعتی یونٹس میں ماہانہ 37 ہزار کی اجرت پر عمل تو ہو رہا ہے تاہم نجی سیکیورٹی گارڈز کو ماہانہ 37 ہزار اجرت دینے پر عمل نہیں کیا جا رہا۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے بتایا کہ 80 فیصد نجی صنعتی یونٹس میں ماہانہ کم از کم اجرات 37  ہزار روپے دینے پر عمل درآمد نہ ہونا لیبر قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

پی اے سی نے سیسی اور محکمہ محنت کو صنعتی یونٹس میں کام کرنے والے تمام ورکرز کو کم از کم اجرت 37 ہزار روپے کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت کردی۔

اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے استفسار کیا کہ سیسی میں کتنے ملازمین ہیں اور کتنے حقیقی اور کتنے جعلی ثابت ہوئے ہیں اور ملازمین کی حاضری کا کیا مکینزم ہے؟

کمشنر سیسی نے بتایا کہ سیسی کے متعدد جعلی ڈگری رکھنے والے ملازمین کو نوکری سے فارغ کیا گیا اور اب سیسی کے 4 ہزار 200 ملازمین ہیں جن کی ڈیجیٹلائز حاضری چیک کی جاتی ہے۔

پی اے سی اجلاس میں  سیسی کے انسٹی ٹیوشنز کے رپیئر کے کام کے لئے جعلی بلوں کے ذریعے 50 ملین روپے کی بوگس ادائگیاں ہونے کا انکشاف سامنے آیا جس پر پی اے سی نے سیسی کے اداروں کے رپیئر کے کاموں کے لئے 50 ملین روپے کی بوگس ادائگیاں ہونے کے معاملے کی سیکریٹری لیبر کو تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ادویات کی خریداری سیسی کے اسپتالوں صنعتی یونٹس میں کی خریداری میں اسپتالوں کے کے سیسی کے اجلاس میں نے بتایا اور کتنے ارب روپے روپے کی کے لئے خرچ ہو

پڑھیں:

بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر 30 سالہ ایڈریانا گارشیا (Adriana Garcia)کاسمیٹک سرجری کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث چل بسی۔

رپورٹس کے مطابق ایڈریانا گارشیا کا منگل کے روز ریاست سینالووا کے ایک نجی کلینک میں کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا تھا، جہاں دورانِ سرجری پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی،مقامی حکام نے تاحال موت کی سرکاری وجہ جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

واقعے کے بعد حکام نے سرجری کے دوران پیش آنے والے حالات اور ممکنہ طبی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایڈریانا گارشیا کے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 90 ہزار سے زائد فالوورز تھے، ان کے انتقال کی تصدیق میکسیکو کی کمپنی نے بھی کی، جس کے ساتھ وہ بطور انفلوئنسر کام کرتی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی