Jasarat News:
2026-06-03@07:56:54 GMT

ڈاکٹر عبدالقدیر اور رانا ثنا اللہ کی ناپاک پنجابیت

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

ڈاکٹر عبدالقدیر اور رانا ثنا اللہ کی ناپاک پنجابیت

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اسلام میں ڈوبی ہوئی پاکستانیت کی تخلیق اور فروغ کے لیے قائم کیا گیا تھا مگر یہاں 75 سال سے ناپاک پنجابیت، ناپاک سندھیت، ناپاک مہاجریت اور ناپاک فوجیت پروان چڑھ رہی ہے۔ ناپاک پنجابیت کی علامت میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور مریم نواز ہیں۔ میاں نواز شریف نے اس وقت جاگ پنجابی جاگ تیری پگ کو لگ گیا داغ کا نعرہ لگایا جب وہ ’’اسلامی جمہوری اتحاد‘‘ کے پرچم تلے سیاست کررہے تھے۔ میاں شہباز شریف کی ناپاک پنجابیت یہ ہے کہ جنرل اسد درانی نے اپنی کتاب ’’اسپائی کرونیکلز‘‘ میں لکھا ہے کہ میاں شہباز شریف کسی زمانے میں بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ راجا امریندر سنگھ کے ساتھ پاکستانی اور بھارتی پنجاب کو ایک کرنے کے معاملے پر مذاکرات فرما رہے تھے۔ مریم نواز شریف کی ناپاک پنجابیت یہ ہے کہ وہ خود کو کبھی اسلام اور پاکستان کی بیٹی نہیں کہتیں۔ وہ ہمیشہ خود کو پنجاب کی بیٹی کہتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ناپاک پنجابیت کی علامت خاندان جنرل عاصم منیر کے سائے میں پھل پھول رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھیت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی پورے ملک میں ایک وفاقی پارٹی ہے مگر سندھ میں وہ ایک قوم پرست سندھی جماعت ہے۔ اس جماعت نے صوبے میں لسانی بل متعارف کراکے سندھی اردو کا تصادم برپا کیا۔ پیپلز پارٹی نے سندھ میں کوٹا سسٹم رائج کرکے مہاجر نوجوانوں پر سرکاری نوکریوں کے تمام دروازے بند کردیے۔ خیر سے اس وقت پیپلز پارٹی بھی جنرل عاصم منیر کے سایہ عاطفت میں پھل پھول رہی ہے۔ مہاجر پاکستان بنانے والے اور اسلام میں ڈوبی ہوئی پاکستانیت کی علامت تھے مگر الطاف حسین اور ایم کیو ایم نے اسلام میں ڈوبی پاکستانیت کو ’’ناپاک مہاجریت‘‘ میں ڈھال دیا۔ الطاف حسین نے 35 سال تک مہاجروں کو پنجابیوں، سندھیوں، پشتونوں اور خود جماعت اسلامی کے مہاجروں سے نفرت سکھائی۔ خیر سے اس وقت ایم کیو ایم بھی ’’مقدس ایجنسیوں‘‘ کے سائے تلے ڈاکے میں ملے ہوئے اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں نواز لیگ کے رہنما اور وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ کے اس بیان پر رتی برابر بھی حیرت نہیں ہوئی جس میں انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قوم کا ’’ہیرو‘‘ ماننے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ’’ہیرو‘‘ نہیں کہا جاسکتا۔ ہیرو تو میاں نواز شریف ہیں جنہوں نے ایٹمی دھماکے کیے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان تو صرف ایک سائنسدان ہیں۔ اس بیان پر ہمارا مختصر ترین تبصرہ یہ ہے کہ یہ بیان ناپاک پنجابیت کے نشے میں ڈوبا ہوا ایک حقیر بیان ہے۔
ہر متعصب جماعت جاہلوں کی جماعت ہے اور بلاشبہ نواز لیگ ناپاک پنجابیت میں گلے گلے تک ڈوبی ہوئی جماعت ہے۔ چنانچہ رانا ثنا اللہ کو معلوم ہی نہیں کہ ’’ہیرو‘‘ کسے کہتے ہیں اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیوں قائداعظم کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے ہیرو ہیں۔
ہیرو کی مختصر ترین تعریف یہ ہے کہ ہیرو ’’ناممکن‘‘ کو ’’ممکن‘‘ بنادیتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کی سب سے بڑی مثال سیدنا عمر فاروقؓ ہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے زمانے میں دو سپر پاورز موجود تھیں یعنی قیصر و کسریٰ۔ دونوں طاقتیں دو ہزار سال سے سپر پاورز تھیں۔ دو ہزار سال میں کوئی طاقت انہیں زیر نہیں کرسکی تھی۔ مگر سیدنا عمرؓ نے دونوں سپر پاورز کو منہ کے بل گرا کر ناممکن کو ممکن بنادیا۔ سیدنا عمرؓ کا تعلق بااللہ اتنا بڑا اور اتنا مضبوط تھا کہ دریائے نیل تک آپ کا حکم مانتا تھا۔ اسلام کے ظہور سے پہلے جب دریائے نیل خشک ہو جاتا تھا تو اہل مصر کسی خوبصورت نوجوان دوشیزہ کی قربانی دیا کرتے تھے مگر سیدنا عمرؓ کے زمانے میں دریائے نیل خشک ہوا تو لوگ پریشان ہو کر سیدنا عمرؓ کے پاس آئے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا ٹھیرو میں دریائے نیل کے نام ایک خط لکھ دیتا ہوں تم یہ خط دریائے نیل تک پہنچادو۔ دریائے نیل کے نام خط میں سیدنا عمرؓ نے لکھا کہ اگر تو اللہ کے حکم سے چلتا ہے تو جاری ہوجا اور اگر تو اللہ کے سوا کسی اور کا حکم مانتا ہے تو خشک پڑا رہ۔ اہل مصر نے سیدنا عمرؓ کا یہ خط دریائے نیل میں ڈالا تو چند ہی دنوں میں دریائے نیل جاری ہوگیا۔ اس طرح سیدنا عمرؓ نے ایک اور ناممکن کو ممکن بنادیا۔ سیرت عمرؓ کا ایک اور واقعہ ہے کہ اسلامی لشکر کئی سو کلو میٹر کے فاصلے پر دشمن سے نبرد آزما تھا اور سیدنا عمرؓ مسجد نبوی میں جمعے کا خطبہ دے رہے تھے۔ خطبہ دیتے دیتے اچانک سیدنا عمرؓ رکے اور کئی سو کلو میٹر کے فاصلے پر موجود اسلامی لشکر کے سپہ سالار کا نام لے کر کہنے لگے کہ ذرا پہاڑ کی جانب دیکھو۔ اسلامی لشکر معرکے سے لوٹا تو اسلامی لشکر کے سپہ سالار نے سیدنا عمرؓ کو بتایا کہ جنگ لڑتے ہوئے اسلامی لشکر پہاڑ کی جانب سے یکسر غافل ہوگیا تھا کہ اچانک اسلامی لشکر کے سپہ سالار کو سیدنا عمرؓ کی آواز سنائی دی۔ ذرا پہاڑ کی جانب دیکھو۔ انہوں نے پہاڑ کی طرف دیکھا تو پایا کہ دشمن پہاڑ کی جانب سے حملہ کرنے والا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسلامی لشکر کے جاں بازوں کو اس جانب بلوا کر دشمن کو شکست سے دوچار کردیا۔ یہ بھی ایک ناممکن بات تھی مگر سیدنا عمرؓ نے ایک اور ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ اسی لیے گاندھی نے کہا تھا کہ اسلام کو ایک اور عمرؓ مل جاتا تو آج ساری دنیا مسلمان ہوتی۔
کہنے کو افلاطون صرف ایک فلسفی کا نام ہے مگر مغرب کے ممتاز فلسفی وائٹ ہیڈ نے ایک جگہ لکھا کہ مغرب کا پورا فلسفہ افلاطون کے فلسفے کے ایک حاشیے یا Foot Note کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایک مبالغہ آمیز بیان ہے مگر اس مبالغے کے بغیر افلاطون کی تعریف کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ دو ہزار سال کی مدت کم نہیں ہوتی۔ انبیا کے سوا اتنی مدت تک کوئی زندہ نہیں رہتا مگر افلاطون ایک فلسفی ہونے کے باوجود دو ہزار سال سے زندہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسفے کے دائرے میں افلاطون نے بہت سے ناممکنات کو ممکن بنا کر دکھادیا۔ افلاطون بلاشبہ انسانی تاریخ کا ایک بڑا ہیرو ہے۔
اسلامی تاریخ میں علمی ہیرو کی سب سے بڑی مثال امام غزالی ہیں۔ امام غزالی کے زمانے تک آتے آتے یونانی فلسفے کے زیر اثر مسلم دانش وروں میں ’’بے عقیدگی‘‘ عام ہونے لگی تھی۔ ابن سینا اور فارابی جیسے لوگ سرعام کہنے لگے تھے کہ خدا کی طرح یہ کائنات بھی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ وہ یہ کہنے لگے تھے کہ خدا ’’کلیات‘‘ کا علم تو رکھتا ہے ’’جزئیات‘‘ کا علم نہیں رکھتا۔ ان کا یہ عقیدہ ہوگیا تھا کہ مرنے کے بعد انسان جسمانی صورت میں دوبارہ نہیں پیدا کیا جائے گا۔ یہ اور اس طرح کے 20 خیالات ایسے تھے کہ وہ پورے اصل اسلام کو کھا جاتے اور اسلام کا وہی حشر ہوتا جو مغرب میں عیسائیت کا ہوا۔ لیکن امام غزالی اُٹھے اور انہوں نے فلسفیوں کے تمام خلافِ اسلام خیالات کا رد تہافت الفلاسفہ کے عنوان سے لکھی گئی کتاب میں پیش کردیا۔ اس کتاب نے پوری مسلم دنیا میں مغربی فلسفے کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ یہ ایسا کام تھا جس کے لیے گروہ اور جماعتیں کیا قومیں بھی کم پڑتی ہیں مگر غزالی نے تن تنہا یہ کام کرکے دکھادیا۔ اس لیے غزالی ہماری 800 سال کی مذہبی فکر کے سب سے بڑے ہیرو ہیں۔ انہوں نے بھی ایک ناممکن کو ممکن کرکے دکھا دیا۔ ہماری شاعری کی تاریخ میں تین شاعروں کی غیر معمولی تعریف ہوئی ہے۔ مولانا روم کی شاعری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی شاعری فارسی کا قرآن ہے۔ یہ ایک مبالغہ آمیز تعریف ہے مگر اس مبالغے کے بغیر مولانا کی شاعری کی تعریف کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مولانا روم نے بھی ایک ناممکن کو ممکن بنا کر دکھایا اس لیے وہ بھی مسلمانوں کے ایک بڑے علمی ہیرو ہیں۔ میر تقی میر کو ’’خدائے سخن‘‘ کہا گیا ہے یہ بھی ایک مبالغہ آمیز تعریف ہے مگر اس کے بغیر میر کی تعریف کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ گویا میر بھی ہمارے ایک بڑے تخلیقی ہیرو ہیں۔ غالب کے دیوان کے حوالے سے عبدالرحمن بجنوری نے کہا ہے کہ ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں۔ وید اور دیوان غالب۔ یہ بھی ایک مبالغہ آمیز بیان ہے مگر اس کے بغیر غالب کی شاعری کی تعریف کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔
قائداعظم 20 ویں صدی کی مسلم سیاست کے سب سے بڑے ہیرو ہیں۔ ان کے بارے میں اسٹینلے ولپرٹ نے کہا ہے کہ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدلا ہے۔ ان سے بھی کم لوگ ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے جغرافیہ تبدیل کیا ہے اور ایسا تو شاید ہی کوئی ہو جس نے ایک قومی ریاست قائم کی ہو۔ قائداعظم نے بیک وقت یہ تینوں کام کیے۔ یہ بھی ناممکن کو ممکن بنانے کی ایک صورت تھی۔
تاریخ کے اس وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ہیرو ہونے میں کوئی کلام ہی نہیں۔ انہوں نے ایک ناممکن کو ممکن بنایا۔ ایک ایسا ملک جو سوئی بھی نہیں بناتا تھا اس نے ایٹم بم بنا کر دکھا دیا۔ اس ایٹم بم نے پاکستان کو کب نہیں بچایا؟ 1987ء میں بھارت پنجاب اور سندھ پر قبضے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ جنرل ضیا الحق کو اس کی اطلاع ملی تو وہ کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے بھارت پہنچے اور انہوں نے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی سے کہا کہ پاکستان ایٹم بم بنا چکا ہے۔ تم نے اگر پنجاب اور سندھ پر قبضے کی کوشش کی تو ہم تمہارے خلاف ایٹم بم استعمال کریں گے۔
جنرل ضیا الحق نے کہا کہ میرے اسلام آباد میں لینڈ کرنے سے قبل پاکستان پر حملے کے احکامات کو واپس لو ورنہ نتائج کے ذمے دار تم ہوگے۔ جنرل ضیا الحق کی یہ دھمکی موثر ثابت ہوئی اور خطرہ ٹل گیا۔ دس بارہ سال قبل بھارت نے عددی اکثریت کی بنیاد پر ایک بار پھر پنجاب اور سندھ پر قبضے کا منصوبہ بنایا مگر پاکستان اس سے قبل فٹبال کی سائز کے بم جنہیں اصطلاح میں Tactical Nuclear Weapons کہا جاتا ہے بنا چکا تھا۔ چنانچہ بھارت کا پاکستان پر حملے کا منصوبہ پھر ناکام ہوگیا۔ 2019ء میں ابھی نندن کے جہاز کے گرنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی بھارت نے کراچی، لاہور اور سیالکوٹ کو ایٹمی حملے سے تباہ کرنے کی تیاری کرلی تھی۔ پاکستان کو اطلاع ملی تو اس نے 6 بھارتی شہروں کو تباہ کرنے کے لیے ایٹمی ہتھیار نصب کردیے۔ اب سب کچھ سیٹلائٹس سے دیکھ لیا جاتا ہے چنانچہ امریکا اور چین درمیان میں کود پڑے اور انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کو ٹھنڈا کیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ قائداعظم نے پاکستان بنایا اور ڈاکٹر عبدالقدیر نے پاکستان بچایا۔ پاکستان نے دھماکے کیے تھے تو ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی درمیان میں کود پڑے تھے۔ انہوں نے بھی ناپاک پنجابیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ایٹم بم صرف ڈاکٹر قدیر نے نہیں بنایا ہم نے بھی بنایا ہے۔ بھارت کا ایٹم بم بھی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے مگر اس سلسلے میں نام صرف ہومی جہانگیر بھابھا کا آتا ہے۔ امریکا کا ایٹم بم بھی ٹیم ورک کا حاصل تھا مگر اس سلسلے میں نام صرف اوپن ہائمر کا آتا ہے۔ پاکستان کا ایٹم بم بھی ٹیم ورک ہی کا حاصل ہے مگر اس ایٹم بم کے خالق صرف ڈاکٹر عبدالقدیر ہیں۔ رانا ثنا کی یہ بات بھی درست نہیں کہ ایٹمی دھماکے میاں نواز شریف نے کیے۔ میاں صاحب کو دھماکے کرنے ہوتے تو دوسرے دن کردیتے مگر انہوں نے دھماکے کرنے میں 17 دن لے لیے۔ وہ دراصل دھماکے نہ کرنے اور امریکا سے 5 ارب ڈالر کا پیکیج لینے کا فیصلہ کرچکے تھے مگر قوم کا دبائو اتنا بڑھا کہ انہیں بالآخر دھماکے کرنے پڑے۔ اس سلسلے میں صورت حال اتنی دھماکا خیز تھی کہ نوائے وقت کے مالک اور مدیر مجید نظامی نے دھمکی دی تھی کہ اگر نواز شریف نے دھماکے نہ کیے تو قوم ان کا دھماکا کردے گی۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر قدیر کا ایٹم بم نہ ہوتا تو میاں نواز شریف دھماکے کہاں سے کرتے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی تعریف کا حق ادا نہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان ناممکن کو ممکن بنا ایک مبالغہ ا میز اسلامی لشکر کے میاں نواز شریف دیکھا جائے تو پہاڑ کی جانب پیپلز پارٹی دو ہزار سال ایک ناممکن دریائے نیل کا ایٹم بم ہے مگر اس انہوں نے ہیرو ہیں کی شاعری یہ ہے کہ بھی ایک کے بغیر ایک اور نہیں کہ یہ بھی نے بھی نے کہا تھا کہ نے ایک

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر