حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت نے پیڑولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا اور پیڑول کی قیمت فی لیٹر 258 روپے 43 پیسے ہوگئی ہے۔
فنانس ڈویژن سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے اوگرا اور متعلہ وزارتوں کی سفارشات کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمت کا اطلاق فوری طور پر اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔
وفاقی حکومت نے پیڑول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 80 پیسے کا اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد پیٹرول فی لیٹر کی نئی قیمت 253 روپے 63 پیسے بڑھ کر 258 روپے 43 پیسے ہوگئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 95 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے، جس کے نتیجے میں فی لیٹر قیمت 254 روپے 64 پیسے بڑھ کر 262 روپے 59 پیسے ہوگئی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اضافہ کردیا حکومت نے کی قیمت فی لیٹر
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔