تاریخ کی کروٹ،وقت کی کڑواہٹ
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستانی طیارے،جن کی پروازیں پاک سرزمین پرمحدودرہیں،مگرجن کے میزائلوں نے سرحدپاردشمن کونشانِ عبرت بنایا،صرف عسکری مہارت کامظہرنہیں تھے،بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ،پاک چین حکمت عملی کاغیرعلانیہ تجربہ تھا۔ پاکستان کی فتح دراصل چین کی کامیاب عسکری مارکیٹنگ تھی۔اسی تجربے کے بعد چنگڈو ایئر کرافٹ کمپنی کے حصص میں40 فیصداضافہ محض اقتصادی اشاریہ نہیں،بلکہ اس بات کابین ثبوت ہے کہ اب معرکہ صرف بندوق اور بارودکا نہیں، برانڈاور بیانیے کابھی ہے۔
یادرہے کہ جب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خوداعتراف کیاکہ بڑی تعداد میں چینی فوجی ایکچوئل کنٹرول لائن پارکرکے انڈین حدود میں آگئے ہیں،تویوں محسوس ہواجیسے ہندوستان کی جغرافیائی خودداری کوبرفانی بوٹوں تلے روند دیا گیا ہو۔یہ صرف ایک سرحدی خلاف ورزی نہ تھی، بلکہ چینی خوداعتمادی کی فتح اورانڈین دعوں کی پسپائی تھی۔اس پوری پیش قدمی پر اگرکوئی چیز نمایاں نہیں تھی،تووہ انڈیاکاعسکری ردِعمل تھا۔ زبانیں جوپاکستان کے خلاف دہکتی تھیں،وہ چین کے آگے سہم گئیں۔
اس سلسلے میں ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی،گویاایک ایسابادشاہ جسے دوشہزادوں کی لڑائی میں صلح کرانے کا شوق ہو،مگرچین نے اس پیشکش کو یوں مستردکیاجیسے کوئی کہے ہم اپنے معاملات خودسلجھانے کے قابل ہیں،تم اپناراستہ لو۔ یہ اس بات کااعلان تھا کہ چین خودمختاربھی ہے، خود کفیل بھی،اورخودمدبربھی۔یہی متانت،یہی خوداعتمادی اسے اس خطے کا بلاشرکتِ غیرے قوت بنانے جا رہی ہے۔
اب ضرورت اس امرکی ہے کہ چین کی اس خوداعتمادی سے پاکستان کے مقتدربھی سبق حاصل کریں۔اپنے دل سے عالمی مالیاتی اداروں کا خوف دل سے نکال کرباہرپھینکیں جس طرح پاکستان نے پہلی مرتبہ امریکی اورمغربی اسلحہ سازکمپنیوں کے سفاکانہ رویے کودیکھتے ہوئے اپنارخ مغرب سے مشرق کی طرف کیا جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
سیزفائرکے چنددن بعدچین نے ایک نئی سفارتی اورنفسیاتی حکمتِ عملی اپنائی،جب انڈیا، پاکستان سے نمٹنے میں مصروف تھا،چین نے ایک خاموش مگرفکری حملہ کیا،اروناچل پردیش کے27 مقامات کے نام چینی اورتبتی زبانوں میں تبدیل کر دیے۔ان میں پہاڑ،درے، ندیاں،جھیلیں،بستیاں اور رہائشی علاقے شامل ہیں۔یہ اقدام نہ صرف انڈیاکے جغرافیائی دعوں پرعلامتی ضرب تھابلکہ اس طرح بیجنگ نے دنیاکو ایک بارپھریہ پیغام دیاکہ نقشے صرف کاغذپرنہیں،حکمرانی کے ذہنوں میں بنتے ہیں۔اس عمل سے یہ ثابت ہواکہ چین اور پاکستان صرف علامتی طاقت نہیں بلکہ سافٹ پاورکے میدان میں بھی پوری قوت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔یہ ناموں کی تبدیلی فقط لسانی مشق نہیں،بلکہ تاریخی دعوے کا آہنی اظہارتھی،جواس وقت کی گئی جب انڈیاکی عسکری توجہ مغرب میں پاکستان پرمرکوزتھی۔یہ عمل گویا ٹرائیکا (انڈیا، اسرائیل، امریکا) کویہ کہہ رہاتھاجب تم مشرق کی طرف دیکھو گے،تمہیں زمین پروہ نام دکھائی دیں گے جو تمہارے نہیں،اورجب تم نقشہ کھولو گے، تمہارے لفظ تمہارے نہیں رہیں گے۔
نیپال،پاکستان اورچین تینوں ممالک انڈیاکے تین جانب واقع ہیں،اورتینوں سے اس وقت تناؤکی کیفیت ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ انڈیا تین طرفہ محاذ کھول کرکس خواب اور جغرافیائی خوش فہمی میں مبتلاہے؟ نیپال ایک چھوٹاساملک سہی،مگراس کی سفارتی خودداری نے انڈین پالیسی سازوں کے ہوش اڑادیے۔پاکستان عسکری ونظریاتی لحاظ سے مضبوط تر ہوچکاہے،اورچین ایک عالمی طاقت ہے جومعاشی وعسکری ہرمیدان میں انڈیا کومات دے چکاہے۔یہ ایساہی ہے جیسے ایک مچھر،تین شیرکی کمین گاہوں میں جا گھسے اور سمجھے کہ بادل ہوں،برس کرنکل جاؤں گا۔
بادی النظرمیں یہ جھڑپ انڈیااورپاکستان کے درمیان تھی،مگردرحقیقت یہ پاک چین کی سہ فریقی حکمتِ عملی کی کامیابی تھی۔عسکری سطح پر پاکستانی افواج کی میدانِ عمل میں خصوصی سٹرٹیجک کارکردگی میں چینی ہتھیاروں جے10 اور جے17کی کامیاب آزمائش کی کامیاب جانچ اورعالمی مارکیٹ میں تشہیر،چینی ایوی ایشن کمپنی کے حصص میں غیرمعمولی ایوی ایشن کمپنی کے حصص میں غیرمعمولی اضافہ اوردوسراسفارتی سکوت میں نفسیاتی بالادستی پربھارت کو دومحاذوں (پاکستان واروناچل)پرالجھاکر عالمی سطح پراس کی علاقائی طاقت کی تصویر کو دھندلا کرنا اور تیسرا دنیاکویہ باورکرواناکہ پاکستان کے عملی مظاہرے کے بعدچین اب نہ صرف صنعتی طاقت ہے،بلکہ جنگی بیانیے کاقائدبھی بن گیاہے اوریقینا یہ ٹارگٹ دونوں ملکوں کے اشتراک سے حاصل ہواہے۔یہ تمام پہلواس امرکاواضح اشارہ ہیں کہ چین نے ایک غیرعلانیہ جنگ پاکستان کے میدانِ جنگ میں کارکردگی کی بناپربغیرفائرنگ کیے جیتی ہے۔
پاکستان کی عسکری کامیابی بجا، مگر پاکستان کی اس بہادرانہ کاوش کے بعداس معرکہ کاکوئی اصل فاتح ہے تووہ بیجنگ ہے جس نے نہ بندوق چلائی،نہ ایندھن جلایا،نہ سپاہی کھپائے مگر اس کی کمپنی کے شیئرزآسمان کوچھونے لگے،اس کے ہتھیاروں نے عملی سند حاصل کی،اس کے سیاسی بیانیے کوتقویت ملی،اوراس کے جغرافیائی خوابوں میں نئے رنگ بھرے گئے ۔ یہی وہ حکمت ہے جسے سیاستِ مشرق کہتے ہیں،جہاں خاموشی گولی سے زیادہ موثر،اورنقشہ جنگ سے زیادہ کاری ہوتی ہے۔اسی لئے کہاگیاہے کہ فتح اس کی جو خاموشی سے بازی لے جائے۔
جنگیں صرف توپ سے نہیں جیتی جاتیں، ان کے پیچھے وہ دماغ ہوتے ہیں جوتاریخ کامزاج بدل دیتے ہیں۔پاک چین نے خاموشی سے، حکمت سے،اوروقت کے مزاج کوسمجھ کر شایدیہی کچھ کردکھایاہے۔ایک بصیرت انگیزتمثیل یادآتی ہے۔’’جب وقت فیصلہ دیتاہے،تو قومیں اسے تاریخ سمجھ کرمحفوظ کرتی ہیں،مگرجوقومیں اسے نظراندازکریں،وہ عبرت بن جاتی ہیں‘‘۔پاک چین دوستی کے اشتراک نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا،اوراپنے بیانیے،ہتھیار،اورحکمت کوایک نئی سطح پرپہنچادیا۔اب یہ عالمی منظرنامے کاایک ناقابلِ انکارسچ ہیاورشایدایشیاکامرکزبھی بدل رہاہے۔
انڈیاکی خاموشی کوبعض حلقے حکمت کہتے ہیں،مگرتاریخ کہتی ہے کہ حکمت وہی جووقت پرہو، جوابی ہو،اورجیت پرمنتج ہو۔اگر دشمن تمھاری حدودمیں داخل ہوجائے،اورتم زبان سے بھی ردنہ کرسکو،تو یہ خاموشی نہیں،بزدلی ہے۔ پاکستان کے خلاف ہرروز جنگی نغمے گانے والے ٹی وی چینلزاورجرنیل،چین کے خلاف گویاگنگامیں ڈبکی لگاکرپرہیزگارہوگئے۔یہ خاموشی بتارہی ہے کہ دشمن کوجانچنے کی نہیں،پہچاننے کی ضرورت ہے۔
انڈیاکی سرحدی شجاعت کاچین کے آگے دم سادھ لیناخاموشی کاجغرافیہ نہیں بلکہ ہندوئوں کے مکارسیاسی گروچانکیہ کااصول ہے کہ طاقتور کو فوری خدا مان کرسجدے میں پڑجاؤ،یہی وجہ ہے کہ دنیاکایہ واحدمذہب ہے جس کے خدائوں کی تعدادکروڑوں میں ہے جس میں چوہے اورسانپ بھی شامل ہیں اورجونہی اس کوکمزوردیکھوتواسی خداجس کے آگے سجدہ ریز ہوتے رہے ہو،انہیں ٹھوکروں کی زدمیں لاتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں ایک لمحہ تاخیرنہ کرو۔یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیامیں خودمودی کواسلحے کے ڈھیرکے سامنے خاص قسم کی پوجااورسجدوں کی تصاویرعام بھی ہوئیں اوررافیل طیاروں کی حفاظت کیلئے پوجا کے طورپرانڈیاکاوزیردفاع ان جہازوں کے ٹائروں کے نیچے انڈے اوردیگراشیا رکھ کرعبادت کرتا رہا اورعالمی میڈیا اب ایک مرتبہ پھران جاہلانہ رسوم کواپنے ناظرین کودکھارہاہے۔یہ صرف انڈیا کامسئلہ نہیں،ہراس قوم کاہے جہاں میڈیا مصلحت کا،سیاسی نعرے کا،اورعوام خاموشی کا شکار ہو۔
پاکستان اورچین کی برف پوش وادیوں میں توپیں شایدنہ بولیں،مگرتاریخ اورسچائی برف میں بھی بولتی ہے اوروہ تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ تم وہ ہوجوکمزورکے خلاف بپھرے،اور طاقتور کے سامنے سہم گئے۔تم وہ ہوجوجغرافیے پردعوی تورکھتے ہومگرجغرافیائی حکمت سے نابلدہو۔تم وہ ہوجوچین کوچیلنج نہیں،خاموشی میں سلام کرتے ہواورپاکستان کوکھلے عام دھمکیاں دیکراپنے اقتدارکادوام چاہتے ہو۔انڈیاکاپاکستان کے خلاف عسکری جوش خطے میں عدم استحکام کاباعث ہے،جبکہ چین کے سامنے اس کی خاموشی دوعملی سیاست اورنعرہ فروش عسکریت کی عکاس ہے۔ان حالات میں برصغیرمیں توازنِ طاقت تیزی سے مشرق کی طرف جھک رہاہے اورپاک چین دوستی وہ آفتاب بن رہاہے،جس کی روشنی نہ صرف مشرق بلکہ جنوب ایشیاکی تاریخ کوبھی نئے سانچے میں منوراورڈھال رہی ہے۔
اس مقالے کے تجزیے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جنوبی ایشیاکی حالیہ فضائی کشیدگی میں جہاں پاکستانی قوم نے سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی طرح تمام سیاسی اختلافات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی یکجہتی کے ساتھ رب تعالی کے سامنے اپنی پوری عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے آپریشن بنیان المرصوص کے سائے تلے فتح مبین کا سہرااپنے سروں پرسجاکر دشمنوں کویہ واضح پیغام دیاہے کہ وطن کی حفاظت کیلئے ہم سب ایک ہیں،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کرناہوگاکہ چین نے بھی عسکری صنعت،جغرافیائی سیاست، اور سفارتی فہم کاایساامتزاج پیش کیاجوکلاسیکی سیاست میں کم ہی نظرآتاہے۔
اب ضرورت اس امرکی ہے کہ قوم کے اندراس اتفاق کے ماحول کومزیدطاقتوربنانے کیلئے سیاسی انارکی کوختم کرنے کیلئے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے قوم میں مزیدیکجہتی اور سیاسی نااتفاقی جودشمنی کی حدوں کوچھورہی تھی،ہمیشہ کیلئے اگرختم نہیں تواس میں خاطر خواہ کمی لائی جائے۔جس طرح ہم نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی نئی بنیادرکھی ہے،چین اورترکی کی مددسے اپنے تمام دوستوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھرنہ صرف ہاتھ ملائے ہیں بلکہ گلے لگ کرشکایات کوہمیشہ کیلئے دورکرنے کیلئے ایسے اخلاص کی ضرورت ہے جس کیلئے رب نے تمام امت مسلمہ کوایک دوسرے کابھائی بھائی قراردیاہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستان کے نہیں بلکہ کمپنی کے کے سامنے ہیں بلکہ کے ساتھ کے خلاف پاک چین چین نے چین کی کہ چین چین کے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی