Daily Ausaf:
2026-06-03@06:40:24 GMT

تاریخ کی کروٹ،وقت کی کڑواہٹ

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستانی طیارے،جن کی پروازیں پاک سرزمین پرمحدودرہیں،مگرجن کے میزائلوں نے سرحدپاردشمن کونشانِ عبرت بنایا،صرف عسکری مہارت کامظہرنہیں تھے،بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ،پاک چین حکمت عملی کاغیرعلانیہ تجربہ تھا۔ پاکستان کی فتح دراصل چین کی کامیاب عسکری مارکیٹنگ تھی۔اسی تجربے کے بعد چنگڈو ایئر کرافٹ کمپنی کے حصص میں40 فیصداضافہ محض اقتصادی اشاریہ نہیں،بلکہ اس بات کابین ثبوت ہے کہ اب معرکہ صرف بندوق اور بارودکا نہیں، برانڈاور بیانیے کابھی ہے۔
یادرہے کہ جب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خوداعتراف کیاکہ بڑی تعداد میں چینی فوجی ایکچوئل کنٹرول لائن پارکرکے انڈین حدود میں آگئے ہیں،تویوں محسوس ہواجیسے ہندوستان کی جغرافیائی خودداری کوبرفانی بوٹوں تلے روند دیا گیا ہو۔یہ صرف ایک سرحدی خلاف ورزی نہ تھی، بلکہ چینی خوداعتمادی کی فتح اورانڈین دعوں کی پسپائی تھی۔اس پوری پیش قدمی پر اگرکوئی چیز نمایاں نہیں تھی،تووہ انڈیاکاعسکری ردِعمل تھا۔ زبانیں جوپاکستان کے خلاف دہکتی تھیں،وہ چین کے آگے سہم گئیں۔
اس سلسلے میں ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی،گویاایک ایسابادشاہ جسے دوشہزادوں کی لڑائی میں صلح کرانے کا شوق ہو،مگرچین نے اس پیشکش کو یوں مستردکیاجیسے کوئی کہے ہم اپنے معاملات خودسلجھانے کے قابل ہیں،تم اپناراستہ لو۔ یہ اس بات کااعلان تھا کہ چین خودمختاربھی ہے، خود کفیل بھی،اورخودمدبربھی۔یہی متانت،یہی خوداعتمادی اسے اس خطے کا بلاشرکتِ غیرے قوت بنانے جا رہی ہے۔
اب ضرورت اس امرکی ہے کہ چین کی اس خوداعتمادی سے پاکستان کے مقتدربھی سبق حاصل کریں۔اپنے دل سے عالمی مالیاتی اداروں کا خوف دل سے نکال کرباہرپھینکیں جس طرح پاکستان نے پہلی مرتبہ امریکی اورمغربی اسلحہ سازکمپنیوں کے سفاکانہ رویے کودیکھتے ہوئے اپنارخ مغرب سے مشرق کی طرف کیا جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
سیزفائرکے چنددن بعدچین نے ایک نئی سفارتی اورنفسیاتی حکمتِ عملی اپنائی،جب انڈیا، پاکستان سے نمٹنے میں مصروف تھا،چین نے ایک خاموش مگرفکری حملہ کیا،اروناچل پردیش کے27 مقامات کے نام چینی اورتبتی زبانوں میں تبدیل کر دیے۔ان میں پہاڑ،درے، ندیاں،جھیلیں،بستیاں اور رہائشی علاقے شامل ہیں۔یہ اقدام نہ صرف انڈیاکے جغرافیائی دعوں پرعلامتی ضرب تھابلکہ اس طرح بیجنگ نے دنیاکو ایک بارپھریہ پیغام دیاکہ نقشے صرف کاغذپرنہیں،حکمرانی کے ذہنوں میں بنتے ہیں۔اس عمل سے یہ ثابت ہواکہ چین اور پاکستان صرف علامتی طاقت نہیں بلکہ سافٹ پاورکے میدان میں بھی پوری قوت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔یہ ناموں کی تبدیلی فقط لسانی مشق نہیں،بلکہ تاریخی دعوے کا آہنی اظہارتھی،جواس وقت کی گئی جب انڈیاکی عسکری توجہ مغرب میں پاکستان پرمرکوزتھی۔یہ عمل گویا ٹرائیکا (انڈیا، اسرائیل، امریکا) کویہ کہہ رہاتھاجب تم مشرق کی طرف دیکھو گے،تمہیں زمین پروہ نام دکھائی دیں گے جو تمہارے نہیں،اورجب تم نقشہ کھولو گے، تمہارے لفظ تمہارے نہیں رہیں گے۔
نیپال،پاکستان اورچین تینوں ممالک انڈیاکے تین جانب واقع ہیں،اورتینوں سے اس وقت تناؤکی کیفیت ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ انڈیا تین طرفہ محاذ کھول کرکس خواب اور جغرافیائی خوش فہمی میں مبتلاہے؟ نیپال ایک چھوٹاساملک سہی،مگراس کی سفارتی خودداری نے انڈین پالیسی سازوں کے ہوش اڑادیے۔پاکستان عسکری ونظریاتی لحاظ سے مضبوط تر ہوچکاہے،اورچین ایک عالمی طاقت ہے جومعاشی وعسکری ہرمیدان میں انڈیا کومات دے چکاہے۔یہ ایساہی ہے جیسے ایک مچھر،تین شیرکی کمین گاہوں میں جا گھسے اور سمجھے کہ بادل ہوں،برس کرنکل جاؤں گا۔
بادی النظرمیں یہ جھڑپ انڈیااورپاکستان کے درمیان تھی،مگردرحقیقت یہ پاک چین کی سہ فریقی حکمتِ عملی کی کامیابی تھی۔عسکری سطح پر پاکستانی افواج کی میدانِ عمل میں خصوصی سٹرٹیجک کارکردگی میں چینی ہتھیاروں جے10 اور جے17کی کامیاب آزمائش کی کامیاب جانچ اورعالمی مارکیٹ میں تشہیر،چینی ایوی ایشن کمپنی کے حصص میں غیرمعمولی ایوی ایشن کمپنی کے حصص میں غیرمعمولی اضافہ اوردوسراسفارتی سکوت میں نفسیاتی بالادستی پربھارت کو دومحاذوں (پاکستان واروناچل)پرالجھاکر عالمی سطح پراس کی علاقائی طاقت کی تصویر کو دھندلا کرنا اور تیسرا دنیاکویہ باورکرواناکہ پاکستان کے عملی مظاہرے کے بعدچین اب نہ صرف صنعتی طاقت ہے،بلکہ جنگی بیانیے کاقائدبھی بن گیاہے اوریقینا یہ ٹارگٹ دونوں ملکوں کے اشتراک سے حاصل ہواہے۔یہ تمام پہلواس امرکاواضح اشارہ ہیں کہ چین نے ایک غیرعلانیہ جنگ پاکستان کے میدانِ جنگ میں کارکردگی کی بناپربغیرفائرنگ کیے جیتی ہے۔
پاکستان کی عسکری کامیابی بجا، مگر پاکستان کی اس بہادرانہ کاوش کے بعداس معرکہ کاکوئی اصل فاتح ہے تووہ بیجنگ ہے جس نے نہ بندوق چلائی،نہ ایندھن جلایا،نہ سپاہی کھپائے مگر اس کی کمپنی کے شیئرزآسمان کوچھونے لگے،اس کے ہتھیاروں نے عملی سند حاصل کی،اس کے سیاسی بیانیے کوتقویت ملی،اوراس کے جغرافیائی خوابوں میں نئے رنگ بھرے گئے ۔ یہی وہ حکمت ہے جسے سیاستِ مشرق کہتے ہیں،جہاں خاموشی گولی سے زیادہ موثر،اورنقشہ جنگ سے زیادہ کاری ہوتی ہے۔اسی لئے کہاگیاہے کہ فتح اس کی جو خاموشی سے بازی لے جائے۔
جنگیں صرف توپ سے نہیں جیتی جاتیں، ان کے پیچھے وہ دماغ ہوتے ہیں جوتاریخ کامزاج بدل دیتے ہیں۔پاک چین نے خاموشی سے، حکمت سے،اوروقت کے مزاج کوسمجھ کر شایدیہی کچھ کردکھایاہے۔ایک بصیرت انگیزتمثیل یادآتی ہے۔’’جب وقت فیصلہ دیتاہے،تو قومیں اسے تاریخ سمجھ کرمحفوظ کرتی ہیں،مگرجوقومیں اسے نظراندازکریں،وہ عبرت بن جاتی ہیں‘‘۔پاک چین دوستی کے اشتراک نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا،اوراپنے بیانیے،ہتھیار،اورحکمت کوایک نئی سطح پرپہنچادیا۔اب یہ عالمی منظرنامے کاایک ناقابلِ انکارسچ ہیاورشایدایشیاکامرکزبھی بدل رہاہے۔
انڈیاکی خاموشی کوبعض حلقے حکمت کہتے ہیں،مگرتاریخ کہتی ہے کہ حکمت وہی جووقت پرہو، جوابی ہو،اورجیت پرمنتج ہو۔اگر دشمن تمھاری حدودمیں داخل ہوجائے،اورتم زبان سے بھی ردنہ کرسکو،تو یہ خاموشی نہیں،بزدلی ہے۔ پاکستان کے خلاف ہرروز جنگی نغمے گانے والے ٹی وی چینلزاورجرنیل،چین کے خلاف گویاگنگامیں ڈبکی لگاکرپرہیزگارہوگئے۔یہ خاموشی بتارہی ہے کہ دشمن کوجانچنے کی نہیں،پہچاننے کی ضرورت ہے۔
انڈیاکی سرحدی شجاعت کاچین کے آگے دم سادھ لیناخاموشی کاجغرافیہ نہیں بلکہ ہندوئوں کے مکارسیاسی گروچانکیہ کااصول ہے کہ طاقتور کو فوری خدا مان کرسجدے میں پڑجاؤ،یہی وجہ ہے کہ دنیاکایہ واحدمذہب ہے جس کے خدائوں کی تعدادکروڑوں میں ہے جس میں چوہے اورسانپ بھی شامل ہیں اورجونہی اس کوکمزوردیکھوتواسی خداجس کے آگے سجدہ ریز ہوتے رہے ہو،انہیں ٹھوکروں کی زدمیں لاتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں ایک لمحہ تاخیرنہ کرو۔یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیامیں خودمودی کواسلحے کے ڈھیرکے سامنے خاص قسم کی پوجااورسجدوں کی تصاویرعام بھی ہوئیں اوررافیل طیاروں کی حفاظت کیلئے پوجا کے طورپرانڈیاکاوزیردفاع ان جہازوں کے ٹائروں کے نیچے انڈے اوردیگراشیا رکھ کرعبادت کرتا رہا اورعالمی میڈیا اب ایک مرتبہ پھران جاہلانہ رسوم کواپنے ناظرین کودکھارہاہے۔یہ صرف انڈیا کامسئلہ نہیں،ہراس قوم کاہے جہاں میڈیا مصلحت کا،سیاسی نعرے کا،اورعوام خاموشی کا شکار ہو۔
پاکستان اورچین کی برف پوش وادیوں میں توپیں شایدنہ بولیں،مگرتاریخ اورسچائی برف میں بھی بولتی ہے اوروہ تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ تم وہ ہوجوکمزورکے خلاف بپھرے،اور طاقتور کے سامنے سہم گئے۔تم وہ ہوجوجغرافیے پردعوی تورکھتے ہومگرجغرافیائی حکمت سے نابلدہو۔تم وہ ہوجوچین کوچیلنج نہیں،خاموشی میں سلام کرتے ہواورپاکستان کوکھلے عام دھمکیاں دیکراپنے اقتدارکادوام چاہتے ہو۔انڈیاکاپاکستان کے خلاف عسکری جوش خطے میں عدم استحکام کاباعث ہے،جبکہ چین کے سامنے اس کی خاموشی دوعملی سیاست اورنعرہ فروش عسکریت کی عکاس ہے۔ان حالات میں برصغیرمیں توازنِ طاقت تیزی سے مشرق کی طرف جھک رہاہے اورپاک چین دوستی وہ آفتاب بن رہاہے،جس کی روشنی نہ صرف مشرق بلکہ جنوب ایشیاکی تاریخ کوبھی نئے سانچے میں منوراورڈھال رہی ہے۔
اس مقالے کے تجزیے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جنوبی ایشیاکی حالیہ فضائی کشیدگی میں جہاں پاکستانی قوم نے سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی طرح تمام سیاسی اختلافات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی یکجہتی کے ساتھ رب تعالی کے سامنے اپنی پوری عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے آپریشن بنیان المرصوص کے سائے تلے فتح مبین کا سہرااپنے سروں پرسجاکر دشمنوں کویہ واضح پیغام دیاہے کہ وطن کی حفاظت کیلئے ہم سب ایک ہیں،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کرناہوگاکہ چین نے بھی عسکری صنعت،جغرافیائی سیاست، اور سفارتی فہم کاایساامتزاج پیش کیاجوکلاسیکی سیاست میں کم ہی نظرآتاہے۔
اب ضرورت اس امرکی ہے کہ قوم کے اندراس اتفاق کے ماحول کومزیدطاقتوربنانے کیلئے سیاسی انارکی کوختم کرنے کیلئے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے قوم میں مزیدیکجہتی اور سیاسی نااتفاقی جودشمنی کی حدوں کوچھورہی تھی،ہمیشہ کیلئے اگرختم نہیں تواس میں خاطر خواہ کمی لائی جائے۔جس طرح ہم نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی نئی بنیادرکھی ہے،چین اورترکی کی مددسے اپنے تمام دوستوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھرنہ صرف ہاتھ ملائے ہیں بلکہ گلے لگ کرشکایات کوہمیشہ کیلئے دورکرنے کیلئے ایسے اخلاص کی ضرورت ہے جس کیلئے رب نے تمام امت مسلمہ کوایک دوسرے کابھائی بھائی قراردیاہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کے نہیں بلکہ کمپنی کے کے سامنے ہیں بلکہ کے ساتھ کے خلاف پاک چین چین نے چین کی کہ چین چین کے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی