اپوزیشن نے ایک بار پھر حکومتی بجٹ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جون2025ء) اپوزیشن نے ایک بار پھر حکومتی بجٹ مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ بجٹ ایک بنکر نے دیا ہے ،6300ارب کے قرضے اٹھائیں گے پھر بنکر کھرب پتی بنیں گے،چینی، آٹا دالوں سمیت ہر چیز مہنگی ہوگی ب،سپیکر نے ہمیں تحفظ نہیں دیا ، پارلیمنٹ کو غیر فعال بنادیاگیا ہے ،عمران خان سمیت تمام قیادت اور کارکنوں کو رہا کیاجائے۔
ان خیالات کا اظہار پوزیشن لیڈر عمر ایوب خان ، اسد قیصر، چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور ارکان نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہاکہ حکومت نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا، اپوزیشن اس کو مسترد کرتی ہے،یہ بجٹ ایک بنکر نے دیا ہے ،6300ارب کے قرضے اٹھائیں گے پھربنکر کھرب پتی بنیں گے ۔(جاری ہے)
انہوںنے کہاکہ چینی ، آٹا اور دالوں سمیت ہر چیز مہنگی ہوگی ۔
انہوںنے کہاکہ وزیر خزانہ اور وزیر اعظم نے جرات نہیں کی کہ اپوزیشن کے سامنے تقریر کریں ۔ انہوںنے کہاکہ ہر چیز کی آزادی چھین لی ہے، ملک میں اظہار رائے اور میڈیا کو آزادی نہیں۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ رات سابق ایم این اے اعجاز چوہدری کو اٹھالیا ہے۔ بانی چیئرمین اور بشریٰ بی بی کوجبرکے طور پر پابند سلاسل رکھا ہوا ہے ،عمر چیمہ کی ضمانت نہیں ہوئی، حسان نیازی ،یاسمین راشد سمیت سب کو پابندسلاسل رکھا ہوا ہے ، سر دار ایاز صادق اسپیکر نہیں رہا، وہ اس حکومت کا کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں جمہوریت ختم ہوچکی ہے ،ورچوئل مارشل نافذ ہے۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کے مائیک بند کر کے زبان بندی کی جارہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جمہوریت روایات اور پارلیمانی روایات کا جنازہ نکال دیا گیا۔ چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہاکہ کٹ موشن پر ہر وزارت جواب دینے کی پابندہے ،کسی نے جواب نہ دیا۔ انہوںنے کہاکہ لاء میں تبدیلی نہیں کرسکتے تھے وہ بھی کیا ،گزشتہ روز حاجی امتیاز کے بھائی اعجاز چوہدری کو اٹھایا گیا ،خورشید شاہ کی کمیٹی ارکان پارلیمنٹ کو تحفظ دینے کیلئے بنائی گئی تھی،ایک بھی رکن کو تحفظ نہیں مل سکا ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے اسپیکر سے مطالبہ کیا ہے آپ نے ہمیں تحفظ نہیں دیا ،احتجاج کیا ہے کیونکہ پارلیمنٹ کو غیر فعال بنادیا گیاہے۔ ملک عامر ڈوگر نے کہاکہ یہ بجٹ عوام دشمن ہے، شام کو پانچ منٹ 471 ارب کا ٹیکس لگاکر عوام پر بوجھ ڈال دیا ،فاٹا پر بھی ٹیکس لگٰاہم احتجاج کرتے ہیں ،ہم اس بجٹ کومسترد کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے بجٹ میں اپوزیشن کی طرف سے کٹ موشن اور فنانس بل میں بڑی تعداد میں ترامیم پیش کی۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح اعجاز چوہدری کو گرفتار کیا گیا قابل مذمت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے قائد عمران خان سمیت تمام قیادت اور کارکنان کو رہا کیا جائے۔اسد قیصر نے کہاکہ بنانا ری پبلک میں بھی ایسا نہیں ہوتا جو اس حکومت نے کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم۔اس بجٹ کو نہیں مانتے ۔ انہوںنے کہاکہ بلاول بھٹو کنفیوژ سیاستدان ہے،پیپلز پارٹی تنقید بھی کرتی اور اقتدار ک یمزے بھی لے رہی ہے۔ثناء اللہ مستی خیل نے کہاکہ پاکستان میں بارہ کروڑ لوگ غریب ہیں ،حکومت نے بجٹ میں مزدور کسان، مڈل کلاس کے لئے کیا دیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آئی پی پی 1994 میں آئی تھی یہ عوام کا خون چوس چکے ہیں ،عدلیہ میڈیا کی آزادی چھین لی گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بانی نے پاک بھارت جنگ میں جیل میں بیٹھ کرمودی کو للکارا، پاکستان نے بھارت کو شکست دی ،حکومت اس اتحاد کو آگے بڑھاکر بانی کو رہا کردیتے تو اچھا ہوتا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوںنے کہاکہ ہم
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :