13 ججز کے فیصلے پر 12 ججز کا نظر ثانی فیصلہ: 12 جولائی اور موجودہ فیصلہ جزوی طور پر آئین سے متجاوز؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
6 مئی 2024 کو جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ کا 25 مارچ 2024 کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں موجود سیاسی جماعتوں کو اضافی مخصوص نشستوں کی تقسیم روک دی تھی۔
اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 13 رکنی بینچ 12 جولائی 2024کو 5 کے مقابلے میں 8 ججز کی اکثریت سے ایک فیصلہ جاری کیا جس میں نہ صرف پی ٹی آئی کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا گیا، 39 اراکینِ اسمبلی کو بطور پی ٹی آئی ایم این اے تسلیم کیا گیا جبکہ 41 اراکین اسمبلی کو 15 دن کا وقت دیا گیا کہ وہ الیکشن کمیشن کو درخواست دے کر پی ٹی آئی یا کسی اور سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
6 مئی 2025، پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی 12 جولائی 2024 کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں پر پہلی سماعت ہوئی۔ 13 رکنی آئینی بینچ کے 2 اراکین جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے ابتدائی سماعت پر ہی اپنا فیصلہ سناتے ہوئے نظر ثانی اپیلیں خارج کر دیں۔ جس کے بعد بینچ کی تشکیل نو کی گئی، 11 رکنی آئینی بینچ جسٹس صلاح الدین پنہور کے بینچ سے الگ ہونے کے بعد 10 رکنی رہ گیا اور آج ہی اس بینچ کو دوبارہ سے تشکیل دے کر سماعت شروع کی گئی اور آج ہی مختصر حکمنامہ بھی جاری کر دیا گیا۔
آج کا مختصر حکمنامہ4 صفحات پر مشتمل تحریری مختصر حکمنامے میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا گیا۔ جس کی رو سے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں خالی رہ جانے والی مخصوص نشستیں پارلیمانی جماعتوں میں تقسیم کی گئی تھیں۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 77 مخصوص نشستیں جو 8 فروری 2024 انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اِسلام میں تقسیم کی گئی تھیں وہ بحال ہو گئی ہیں۔ جسٹس امین الدین خان، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس شاھد بلال حسن، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل 7 ججوں نے متفقہ طور پر پشاور ہائیکورٹ کے حکمنامے کو بحال کر دیا۔ جبکہ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی نے اپنے اقلیتی فیصلے میں الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کی تقسیم کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنے 12 جولائی 2024 کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ قومی اسمبلی کے 39 اراکین کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے جنہوں نے اپنے نامزدگی فارم میں یہ لکھا اور ٹکٹ بھی جمع کروایا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جبکہ 41 نشستوں سے متعلق اپنے فیصلے پر نظرِثانی کی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کا حکمنامہ کیا تھاپشاور ہائیکورٹ نے اپنے حکمنامے میں قرار دیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان اِضافی مخصوص نشستیں پارلیمنٹ کی دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرنے کا مجاز ہے۔
12 جولائی کا فیصلہ اور موجودہ فیصلہ جزوی طور پر آئین سے متجاوز ہے، حسن رضا پاشاپاکستان بار کونسل ایگزیکٹو کمیٹی کے سابق چیئرمین ایڈووکیٹ حسن رضا پاشا نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 12 جولائی 2024 کا جب فیصلہ آیا تو اُس میں کہا گیا تھا کہ 41 اراکین 15 دنوں میں پی ٹی آئی یا کسی اور جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اُس پر وکلاء نے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ آئین میں کسی آزاد اُمیدوار کو کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کے لئے 3 دن کا وقت دیا گیا ہے تو یہ 15 دن کا وقت کہاں سے آیا۔ اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ عارضی بندوبست ہے۔ لیکن آئین میں تو عارضی بندوبست کی گنجائش ہی نہیں وہاں تو صاف صاف 3 دن ہی لکھا ہے۔ تو اُس وقت کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے آئین کو ازسر نو تحریر کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج آئینی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ کے جس فیصلے جس کو موجودہ فیصلے سے بحال کیا ہے، اس کے مطابق اضافی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی جائیں گی۔ یہ چیز بھی آئین سے ماورا ہے۔ جب مذکورہ نشستیں پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کو نہیں مل سکتیں تو وہ دیگر جماعتوں کو کیسے مل سکتی ہیں۔
کیا 12 رکنی آئینی بینچ 13 رکنی سپریم کورٹ بینچ کے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتا ہے، اس سوال کے جواب میں حسن رضا پاشا نے کہا کہ 26 ویں ترمیم سے پہلے یہ طریقہ تھا کہ نظر ثانی وہی بینچ سن سکتا تھا جس نے اصل فیصلہ دیا ہو۔ لیکن 26 ویں ترمیم کے بعد اب سارے آئینی معاملات آئینی بینچ ہی سنے گا۔ یہ چونکہ ایک آئینی معاملہ تھا تو لامحالہ اس کی سماعت آئینی بینچ ہی میں ممکن تھی۔ اسی لیے جب پی ٹی آئی نے درخواست دائر کی کہ فل کورٹ بنائی جائے اور وہی ججز شامل کیے جائیں جنہوں نے 12 جولائی کا فیصلہ دیا تھا تو وہ درخواست مسترد کر دی گئی۔ کیونکہ نئے طریقہ کار کے مطابق اگر آئینی بینچ ہی 12 ججز کا ہے تو 12 ججز ہی اس کی سماعت کریں گے۔ یہ ایک بدلتی ہوئی صورتحال ہے لیکن اس میں یہی ممکن تھا۔ آئندہ کے لیے مثال قائم ہو گئی ہے کہ آئینی معاملات سے متعلق کوئی بھی نظرِثانی آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے۔
بالکل غیر آئینی اور غیر منصفانہ فیصلہ ہے، امان اللہ کنرانیسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان کنرانی ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بالکل غیر آئینی اور غیر منصفانہ ہے۔ 12 جولائی 2024 کا وہ فیصلہ جس کی رو سے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دی گئیں وہ 13 رکنی بینچ کا فیصلہ تھا۔ اصولی طور پر نظرِثانی بینچ اس بینچ سے بڑا ہونا چاہیے تھا جس کے اراکین کی تعداد کم از کم 14 یا 15 ہوتی۔ لیکن 13 رکنی بینچ بنایا گیا جو جسٹس صلاح الدین پنہور کے بینچ سے علیحدہ ہونے کے بعد 12 رکنی رہ گیا۔ اب یہ 12 رکنی بینچ 13 رکنی بینچ کے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتا تھا۔ دوسری بات یہ کہ اصولی طور پر نظرِثانی بینچ میں وہ تمام جج صاحبان شامل ہوتے ہیں جنہوں نے اصل فیصلہ صادر کیا ہوا۔ ان جج صاحبان کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ کسی وقت حالات بدلے تو پر۔انکیوریم یعنی قانون کے غلط استعمال کی بنیاد پر اِس طرح کے فیصلے مسترد ہو جائیں گے۔
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ 26 ویں آئینی ترمیم کا ہے، سب سے پہلے 26 ویں آئینی ترمیم کے بارے میں فیصلہ ہونا چاہیے کہ وہ درست ہے یا غلط۔ اس کے بعد یہ سارے فیصلے کیے جانے چاہییں تھے۔ اس وقت مفادات کے ٹکراؤ کی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں، سیاسی مقاصد کے تحت فیصلے کیے جا رہے ہیں، عجلت اور بد نیتی کی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں جو نہیں ہونے چاہییں۔
پاکستان تحریک انصاف ٹیکنیکل ناک آؤٹ ہوئی ہے، صدر سپریم کورٹ بارسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر میاں رؤف عطاء نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آئینی بینچ کے فیصلے کو درست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ درست تھا جس میں حکمران پارلیمانی جماعتوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن میں حصہ لیا اور تناسب کے حساب سے ہمیں نشستیں الاٹ کی جائیں۔ سپریم کورٹ کا 12 جولائی کا فیصلہ اختیارات سے تجاوز تھا اس میں سپریم کورٹ نے درخواست گزار کو وہ ریلیف دیا جو اس نے مانگا ہی نہیں تھا، سپریم کورٹ کو آرٹیکل 188 کے تحت اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے۔
میاں روؤف عطاء نے کہا کہ اس فیصلے کی رو سے پاکستان تحریک انصاف ٹیکنیکل ناک ہوئی ہے اس نے بروقت ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی تھی۔ تکنیکی بنیادوں پر یہ درست فیصلہ دیا گیا ہے لیکن فطری انصاف کے رو سے آپ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تحریک انصاف نشستیں ریزرو سیٹس سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں کا فیصلہ مخصوص نشتوں کا فیصلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک انصاف نشستیں ریزرو سیٹس سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں کا فیصلہ مخصوص نشتوں کا فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کا ا ئینی بینچ ہی الیکشن کمیشن مخصوص نشستیں مخصوص نشستوں تحریک انصاف سیاسی جماعت سپریم کورٹ فیصلے کیے جولائی 2024 پی ٹی ا ئی کرتے ہوئے نشستوں کی نے کہا کہ کا فیصلہ فیصلے کی فیصلے پر کے فیصلے بینچ کے نے اپنے کورٹ کا دیا گیا تھا کہ کی گئی کے بعد
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔