Express News:
2026-07-24@08:36:23 GMT

من حیث الامت ہم سب اہلِ غزہ کے مجرم ہیں

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

غزہ میں صیہونی دہشتگردی وبربریت کے ساتھ بھوک و پیاس کا ننگا ناچ جاری ہے، اس وقت اہل غزہ کے خلاف سب سے بڑا صیہونی ہتھیار خوراک بن چکا ہے، غاصب اسرائیلی فوج نے غزہ میں خوراک کی ترسیل کا سلسلہ مسلسل کئی ماہ سے روک رکھا ہے۔ بھوک اور پیاس کے نتیجے میں سیکڑوں شہری، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، بھوک سے شہید ہو چکے ہیں۔

ظلم و بربریت کی انتہا ہے کہ کھانے پینے کے امدادی مراکز پر بھی مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی مجرمانہ اور امت مسلمہ کی ذلت آمیز خاموشی کے باعث غزہ کے مظلوم عوام دہائی دے رہے ہیں کہ نسل کشی صرف بمباری سے نہیں خوراک اور پانی کی بندش سے بھی ہوتی ہے جو غزہ میں جاری ہے۔ اسرائیلی محاصرے کے نتیجے میں غزہ کی 90 فیصد آبادی کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ’’میں اللہ کے پاس جا رہا ہوں، سب کچھ بتانے‘‘ یہ الفاظ ایک جنگ زدہ و فاقہ زدہ بچے نے شہادت سے پہلے کہے تھے، جو اب غزہ کے ہزاروں بچوں کی صدا بن چکے ہیں۔

یہ وہ بچے ہیں جو قحط، بمباری اور عالمی خاموشی کے درمیان صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ بھوک غزہ کے بچوں، بوڑھوں، مردوں اور خواتین کے تھکن سے چور چور جسموں کو ناصرف چبھتی ہے بلکہ انھیں موت کے قریب لے جارہی ہے۔ اس وقت روئے زمین پر غزہ سے مظلوم کوئی خطہ نہیں جہاں موت کے ہزار چہرے ہیں لیکن خالی آنتوں کے پھٹنے سے جو موت ہوتی ہے اس کی مظلومیت کا نوحہ سب نوحوں پر بھاری اور حاوی ہے۔

بھوک اور پیاس سے غزہ کے بچے اور بوڑھے گر رہے ہیں اور تیزی سے موت کی آغوش میں جارہے ہیں۔ غزہ کی زمین پر بھوک کے سوا کچھ نہیں، اور آسمان سے شعلوں کے سوا کچھ نہیں اترتا۔ غزہ کے مظلوم مسلمان خوف اور قحط کی آگ میں جل رہے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق تقریباً نصف ملین غزہ کے باشندے تباہ کن قحط کے پیمانے کے پانچویں مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔

دنیا کے سارے دسترخوان اب بھی انواع و اقسام کے کھانوں سے بھرے ہوئے ہیں، دور جانے کی ضرورت نہیں ارض فلسطین کے ارد گرد موجود عرب ممالک کے امراء کے دسترخوان کو دیکھ کر شرم آتی ہے تو دوسری طرف وہ دولت کے دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں، ان ممالک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آجائے تواستقبال پر اربوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، ٹرمپ کے قدموں میں دولت کے ڈھیر لگا دیتے ہیں لیکن غزہ کے بھوکے پیاسے، بلک بلک کر مرتے بچوں کے لیے ان بے حس حکمرانوں کو پانی ایک بوتل بھیجنے کی ہمت بھی نہیں۔ ان کے گلوں میں مفادات کے ایسے بھاری طوق پڑے ہوئے ہیں جن کے بوجھ سے انھیں سامنے کا صاف منظر بھی دکھائی نہیں دیتا۔ اہل فلسطین جو دو ارب مسلمانوں پر مشتمل ایک قوم (امت) سے تعلق رکھتے ہیں اور جو تقریباً 400 ملین آسودہ حال لوگوں(عربوں) کے ساتھ رہتے ہیں جو ایک مذہب، زبان اور شناخت رکھتے ہیں جنھیں قرآن نے ملت واحدہ قرار دیا ہے مگر ان باہمی اختلافات کی وجہ سے اہل غزہ ایک چھوٹی سی ناجائز صیہونی ریاست کی بربریت کا شکار ہیں۔ یونیسف کے مطابق، 4لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد بھوک کی انتہائی شدید حالت میں ہیں اور زندگی بچانے کے لیے فوری امداد کے منتظر ہیں۔

غزہ میں تقریباً71 ہزاربچے غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کی بقا کے لیے غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے فوری علاج اور خوراک کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پر آنے والی تصاویر دل دہلا رہی ہیں، کلیوں جیسے خوبصورت بچوں اور بچیوں کی کمزور پسلیاں اور بوسیدہ ہڈیاں ان تصاویر میں بھیانک صورتحال کی نشاندہی کررہی ہیں مگر آنکھوں کے نور سے محروم امت کے مسلمان حکمرانوں کو کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔

اسرائیل نے غزہ کے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے کئی جال بچھائے ہیں، ایک طرف مسلسل گولہ باری اور بارودی سرنگوں کے ذریعے ان کو موت کے گھاٹ اتار رہا ہے، دوسری طرف جب بھوکے و پیاس کے مارے معمولی امداد کی تقسیم کے مقامات پر پہنچ جاتے ہیں تو وہاں بمباری کرکے خوراک کے بجائے موت بانٹتا ہے۔

جہاں کوئی براہ راست گولہ باری سے شہید، کوئی روٹی کا ٹکڑا پکڑتے ہوئے شہید، کوئی جوس کے ڈبے اور پانی کی بوتل تک پہنچنے سے پہلے راستے میں شہید تو کوئی اسرائیل کی طرف سے برسائے گئے شعلوں کی وجہ سے بھاگنے والوں کے قدموں تلے روندے جانے سے شہید ہوجاتا ہے۔ اسرائیلی درندوں نے خوراک کی تقسیم کے مراکز کے ارد گرد جمع ہونے والے لوگوں پر بمباری کو کھیل سمجھ رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ مراکز غزہ میں موت کے جال کے نام سے مشہور ہو چکے ہیں۔

اس بے بسی کے عالم میں قسام بریگیڈز کے فوجی ترجمان ابو عبیدہ کی آواز نے دنیا بھرکے انصاف پسند لوگوں کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا، ابوعبیدہ نے امت مسلمہ کے حکمرانوں، علماء کرام، سیاسی جماعتوں، تنظیموں کے ذمے داروں کو مخاطب کرکے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ "تم سب اللہ کے سامنے ہمارے مجرم ہو، تم ہر اس یتیم، اس بیوہ، زخمی، اس بے گھر اور فاقہ زدہ فلسطینی کے دشمن ہو جنھیں تم نے اپنی خاموشی سے تنہا چھوڑ دیا‘‘۔

ابوعبیدہ کا شکوہ سو فیصد درست ہے، من حیث الامت ہم سب اہل غزہ کے مجرم ہیں، ہم نے انھیں بھلادیا۔ مسلم ممالک کے حکمران تو مفادات کے اسیر ہیں لیکن عوام کو کیا ہوا؟ ہمیں جس طرح اپنے مظلوم بھائیوں کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے تھی نہیں کی۔ ہمیں اپنی دعاؤں میں جس طرح اہل غزہ کو یاد رکھنا چاہیے تھا نہیں رکھا۔ ہم سے بہتر تو یورپ کے عوام نکلے۔ جنھوں نے انسانی ہمدردی کے ناتے اہل غزہ کے لیے توانا آواز بلند کی اور اپنی حکومتوں کو فلسطین کے حق میں کھڑا ہونے پر مجبور کردیا۔ برطانیہ اور فرانس کے بعد مزید 3 یورپی ممالک پرتگال، جرمنی اور مالٹا نے بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اشارہ دے دیا۔

جرمن وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ"اگر دو ریاستی عمل کے لیے مذاکرات شروع نہ ہوئے تو جرمنی فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے غور پر مجبور ہوگا۔ اس سے پہلے کینیڈا بھی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں فلسطینی ریاست کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔گزشتہ دنوں فرانس اور دیگر 14 ممالک کی جانب سے دنیا بھر سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے جس سے دنیا بھر کے انصاف پسند حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فلسطین کے مسئلے کا حل صرف اور صرف انصاف کے ذریعے ہی ممکن ہے اور انصاف یہ ہے کہ فلسطین بحر سے لے کر نہر تک فلسطینیوں کا ہی ہے۔

اگر اقوام متحدہ کے اصولوں، قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں بھی دیکھ لیا جائے تو اسرائیل پر 1997کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے کی حدود پر واپس جانا لازم ہے اور اس نے اس جنگ کے بعد جتنی فلسطینی اراضی پر قبضہ کیا ہے، اسے واگزار کرانا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمے داری ہے۔ موجودہ جنگ کے تناظر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی جنگی کابینہ کو جنگی جرائم کے جرم میں سزا سناکر ان کے بین الاقوامی وارنٹ جاری کرچکی ہے۔

اگر دنیا میں قانون اور انصاف نام کی کوئی شے موجود ہے تو اس فیصلے پر بھی عمل درآمد ہونا چاہیے اور مسئلہ فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل ہونا چاہیے۔ امت مسلمہ کے حکمرانوں کے پاس اب بھی وقت ہے وہ اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرلیں، اگر یورپ کے ممالک فلسطین کے حق میں کھل کر کھڑے ہوسکتے ہیں تو ان سے زیادہ تو آپ کی ذمے داری بنتی ہے، تمام اسلامی ممالک اسرائیل کے غیرانسانی مظالم کے خلاف جراتمندانہ قدم اٹھائیں ایسا قدم جو اہل غزہ کے زخموں پر پھاہا بنے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی اقوام متحدہ تسلیم کرنے اہل غزہ کے فلسطین کے خوراک کی رہے ہیں سے پہلے چکے ہیں موت کے کے لیے کے ہیں

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر