یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے 27 ارب روپے کا ریلیف پیکیج تیار
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
وفاقی حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے مالی بحران سے نمٹنے کے لیے 27 ارب روپے کا بڑا مالی پیکیج تیار کر لیا ، جس کی منظوری کل اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں متوقع ہے۔
وزارت صنعت و پیداوار کے حکام کے مطابق، اس پیکیج میں ملازمین کی رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے لیے 15 سے 18 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 13.
ملازمین کی تعداد میں نمایاں کمی کا فیصلہ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں اس صورتِ حال پر تفصیلی بحث ہوئی۔ ارکان نے یوٹیلٹی اسٹورز کی ممکنہ بندش اور ملازمین کو واجبات کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نجکاری کے عمل کے دوران ادارے کے 11 ہزار ملازمین میں سے صرف تقریباً 300 افراد کو برقرار رکھا جائے گا۔
کمیٹی نے ملازمین کے لیے تجویز کردہ مالی پیکیج کی مکمل تفصیلات فوری طور پر طلب کر لیں۔
پی آئی اے کی نجکاری میں تیزی، بولی رواں سال کے آخر میں متوقع
اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق اہم پیش رفت بھی سامنے آئی۔ نجکاری کمیشن کے حکام کے مطابق، پی آئی اے کی مالی اور انتظامی جانچ پڑتال (Due Diligence) جاری ہے، اور 2025 کی آخری سہ ماہی میں اس کے لیے باقاعدہ بولی کا عمل شروع کرنے کا ارادہ ہے۔
اب تک پانچ کنسورشیم نے “اسٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن” جمع کرائی ہے، جن میں سے چار اہل قرار پائے ہیں ۔ ان کمپنیوں کو پی آئی اے کے مختلف یونٹس اور سائٹس کے دورے بھی کرائے جا رہے ہیں۔
ملک بھر میں بجلی کی طویل بندش پر بھی کمیٹی کا اظہارِ تشویش
اجلاس کے دوران ملک بھر میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ کمیٹی کے چیئرمین فاروق ستار نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں روزانہ 15 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، عوام شدید اذیت میں ہیں۔ کمیٹی نے اس معاملے پر وزیر توانائی کو آئندہ اجلاس میں طلب کر کے بریفنگ دینے کی ہدایت جاری کر دی ۔ Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یوٹیلٹی اسٹورز اجلاس میں پی ا ئی اے ارب روپے کے لیے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔