پاکستان ماحولیاتی چیلنج سے تنہا نہیں نمٹ سکتا، دنیا کو ہمارا ساتھ دینا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو پاکستان کی مدد کرنا ہوگی۔
وہ اسلام آباد میں “نیو انرجی وہیکل پالیسی” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں وزیراعظم نے واضح کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی محض مقامی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے، اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو اس سے نمٹنے میں تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔
انہوں نے کہا حال ہی میں خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں، فلیش فلڈز اور بادل پھٹنے کے واقعات سے کئی علاقے تباہ ہو گئے، درجنوں گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور قیمتی جانوں کے ساتھ ساتھ املاک کا بھی بڑا نقصان ہوا۔
وزیراعظم نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا بھی حوالہ دیا، جس میں سینکڑوں اموات ہوئیں اور 30 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے باوجود ہم سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
نئی وہیکل پالیسی—ماحول دوست ترقی کی جانب ایک اہم قدم
تقریب میں ماحولیاتی بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف ایک اور عملی قدم اٹھایا گیا، جہاں ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ان کی نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر الیکٹرک بائیکس دی گئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ بائیکس کسی سفارش پر نہیں دی گئیں، بلکہ طلبہ کو ان کی محنت کا صلہ ملا ہے۔ میں ہارون اختر کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے صوبائی حکومت سے مشاورت کر کے یہ مؤثر اور انقلابی پالیسی تشکیل دی۔”
نئی پالیسی کے فوائد: روزگار، ماحول اور توانائی میں بچت
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے بتایا کہ یہ نئی پالیسی ملک میں انڈسٹری کی جدید کاری کی بنیاد رکھے گی۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی آئے گی اور ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کو ایک صاف، سرسبز اور جدید ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی طرف عملی قدم ہے۔ آج ہمارا خواب حقیقت بن گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، یہ ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 2026-2027 کے بجٹ کے حوالےسے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں تھی۔
وفد میں میاں محمد منشا، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار ، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم، خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔
وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہا اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ہماری پہچان ہیں، مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں، حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے، غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں، کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہوئی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، ایسی صنعتوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو، ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے، نوجوانوں کیلئے تکنیکی و فنی تربیت کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ انکو روز گار ملنے میں آسانی ہو اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
وفد کو کاروبار، صنعت و تجارت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات جلد نمٹائے کیلئے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں؛ ان ٹریبونلز میں انتہائی شفاف طریقہء کار کے ذریعے بھرتیاں کی گئی ہیں، اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے حوالےسےکمیٹی تشکیل دی گئی ہے، کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لئے موٹر وے ایم- 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے۔
بریفنگ کے مطابق موٹر وے ایم 13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا، پاکستان ریلوے کی ایم۔ایل ون اور ایم ایل- ٹو کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا انفرااسٹرکچر بہتر ہو گا جس سے تجارتی سامان کی ترسیل بہتر ہو گی، نیشنل اے-آئی ٹرانسفارمیشن پلان تشکیل دیا جا رہا ہے، شوگر اور سیمنٹ سیکٹر کی پیداوار کے حوالے سے ان صنعتوں میں وڈیو اینالیٹکیس کی تنصیب سے ریوینیو کی مد میں بہتری آئی۔
وفد نے خطے میں امن کی بحالی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا، کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہار کیا۔
وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول فراہم کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہتے ہیں۔
وفد نے ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیرمقدم کیا، کاروباری رہنماوں نے صنعتوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی لانے، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا۔
شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا، کاروباری رہنماؤں نے قومی معیشت کی مضبوطی اور بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کیں، کاروباری برادری نے معاشی بحالی اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفد کے شرکاء نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو سراہا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور اعوان ، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔