سیالکوٹ، تعلیمی ادارے 5 ستمبر تک بند، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
ضلع سیالکوٹ میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو 5 ستمبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ سیلاب کی شدت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام تعلیمی ادارے 5 ستمبر تک بند رہیں گے۔
سیلابی صورتحال نے شہر بھر میں نقل و حرکت اور معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث مقامی حکام نے طلبہ، اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ سیلابی پانی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور سیلابی علاقوں سے دور رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کا جائزہ لے کر مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے، تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
اس فیصلے سے متاثرہ طلبہ اور والدین کو کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکام نے اس بات کا بھی یقین دلایا ہے کہ تعلیمی نقصان کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے اور مستقبل میں اس کا تدارک کیا جائے گا۔
سیالکوٹ میں اس وقت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام تعلیمی ادارے 5 ستمبر تک بند رہیں گے اور اس دوران حکومت اور متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ستمبر تک بند
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :