سستا آٹا فراہم کرنے سے فلور ملوں کے انکار پر حکومت کا ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
سستا آٹا فراہم کرنے سے فلور ملوں کے انکار پر حکومت پنجاب کا ردعمل سامنے آگیا جب کہ صوبائی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ سیلاب کی آڑ میں آٹے اور روٹی کے نرخ کنٹرول اور سپلائی برقرار رکھنے کے لیے پنجاب حکومت نے اہم اقدام کرتے ہوئے آٹا اور گندم کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کو فوری متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع نے کہا کہ حکومت پنجاب نے گندم کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے پیرا فورس کو ٹاسک دیدیا، گندم کو فیڈ ملوں میں استعمال کرنے پر پابندی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق روٹی کے نرخ 14 روپے اور اٹا بیگ کا نرخ 1800 سے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔