عالمی بینک نے سیلاب متاثرہ پاکستان کے لیے دیے گئے فنڈز کی تفصیلات جاری کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
عالمی بینک نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کے لیے اعلان کردہ 2 ارب ڈالر امداد میں سے جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیلات جاری کر دیں۔ اب تک 1 ارب 2 کروڑ 68 لاکھ ڈالر پاکستان کو فراہم کیے جا چکے ہیں، جن میں سب سے بڑا حصہ صوبہ سندھ کی بحالی و تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا۔
جاری کردہ دستاویزات کے مطابق، یہ فنڈز بنیادی طور پر ایمرجنسی ریسپانس، متاثرین کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مخصوص تھے۔
سندھ کو سب سے زیادہ فنڈز
عالمی بینک نے کہا کہ سندھ فلڈ ایمرجنسی ہاؤسنگ ری کنسٹرکشن منصوبے کے لیے 45 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اور سندھ فلڈ ایمرجنسی ریکوری منصوبے کے لیے 51 کروڑ 50 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔
2024-25 کے دوران ان منصوبوں کے لیے مزید 60 کروڑ ڈالر کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جن میں سے 13 کروڑ ڈالر پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔
ایمرجنسی کیش سپورٹ اور دیگر منصوبے
متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد دینے کے لیے 27 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ایمرجنسی کیش ٹرانسفرز کی مد میں دیے گئے۔
اس کے علاوہ انٹیگریٹڈ فلڈ ریزیلینس اینڈ ایڈاپشن پراجیکٹ کے لیے 6 کروڑ ڈالر سے زائد رقم جاری کی گئی جبکہ 17 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مزید نئے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
عالمی بینک کا وعدہ، بحالی کی کوششیں جاری
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز پاکستان کی بحالی، متاثرین کی مدد اور مستقبل میں قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت بڑھانے کے لیے دیے جا رہے ہیں۔
یہ اقدام نہ صرف متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں مدد دے رہا ہے بلکہ مستقبل کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لیے پاکستان کی تیاریوں کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عالمی بینک لاکھ ڈالر کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔