عالمی بینک نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کے لیے اعلان کردہ 2 ارب ڈالر امداد میں سے جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیلات جاری کر دیں۔ اب تک 1 ارب 2 کروڑ 68 لاکھ ڈالر پاکستان کو فراہم کیے جا چکے ہیں، جن میں سب سے بڑا حصہ صوبہ سندھ کی بحالی و تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا۔
جاری کردہ دستاویزات کے مطابق، یہ فنڈز بنیادی طور پر ایمرجنسی ریسپانس، متاثرین کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مخصوص تھے۔
سندھ کو سب سے زیادہ فنڈز

عالمی بینک نے کہا کہ سندھ فلڈ ایمرجنسی ہاؤسنگ ری کنسٹرکشن منصوبے کے لیے 45 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اور سندھ فلڈ ایمرجنسی ریکوری منصوبے کے لیے 51 کروڑ 50 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔
2024-25 کے دوران ان منصوبوں کے لیے مزید 60 کروڑ ڈالر کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جن میں سے 13 کروڑ ڈالر پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔

ایمرجنسی کیش سپورٹ اور دیگر منصوبے
متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد دینے کے لیے 27 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ایمرجنسی کیش ٹرانسفرز کی مد میں دیے گئے۔

اس کے علاوہ انٹیگریٹڈ فلڈ ریزیلینس اینڈ ایڈاپشن پراجیکٹ کے لیے 6 کروڑ ڈالر سے زائد رقم جاری کی گئی جبکہ 17 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مزید نئے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
 عالمی بینک کا وعدہ، بحالی کی کوششیں جاری
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز پاکستان کی بحالی، متاثرین کی مدد اور مستقبل میں قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت بڑھانے کے لیے دیے جا رہے ہیں۔
یہ اقدام نہ صرف متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں مدد دے رہا ہے بلکہ مستقبل کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لیے پاکستان کی تیاریوں کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔

Post Views: 11.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: عالمی بینک لاکھ ڈالر کے لیے

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری

راؤ دلشاد:پنجاب حکومت کے کسان کارڈ پروگرام کے تحت صوبے میں پہلی بار 8 لاکھ 32 ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جس کے ذریعے کسانوں کو زرعی مداخل کی خریداری اور مالی معاونت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 8 لاکھ 32 ہزار کاشتکار کسان کارڈ کے ذریعے 2 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد کے زرعی قرضے استعمال کر چکے ہیں۔ گندم کے سیزن کے دوران کاشتکاروں نے کسان کارڈ کے ذریعے 100 ارب روپے مالیت کی زرعی مداخل خریدیں۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکام کے مطابق 5 لاکھ 38 ہزار کاشتکاروں سے 67 ارب روپے کی رقم قابل وصول تھی، جس میں سے 86 فیصد ریکوری کا ریکارڈ قائم کیا گیا۔ کاشتکاروں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 57 ارب روپے کی اقساط بھی ادا کر دی ہیں۔

خریف سیزن کے لیے کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو 90 ارب روپے کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ 3 لاکھ کاشتکاروں نے 30 ارب روپے مالیت کی زرعی مداخل اسی پروگرام کے تحت حاصل کیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کسان کارڈ کے ذریعے پنجاب کے کاشتکاروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا کاشتکار اب کسی آڑھتی کا مقروض نہیں ہوگا بلکہ باعزت اور خودمختار زندگی گزار سکے گا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

مریم نواز  مزیدنے کہا کہ کاشتکاروں کو مالی خودمختاری اور خوشحالی کی راہ پر گامزن دیکھنا ان کا خواب ہے، اور حکومت زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ