یاماہا کا پاکستان میں موٹرسائیکل کی پروڈکشن بند کرنے کا اعلان، وجہ کیا بتائی؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
یاماہا نے پاکستان میں موٹر سائیکل بنانے کا سلسلہ بند کردیا ہے، کمپنی کی جانب سے اسپیئر پارٹس کی فراہمی جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پرانی بائیک کےبدلے نئی لینا چاہتے ہیں تو پھر یاماہا کی یہ آفر آپ کے لیے ہے
یاماہا موٹر پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے اپنے صارفین کے نام جاری بیان میں اعلان کیا ہے کہ کمپنی پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی مینوفیکچرنگ بند کررہی ہے۔
یاماہا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بزنس پالیسی میں تبدیلی کے باعث پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی تیاری کا عمل معطل کیا جارہا ہے۔ کمپنی نے اپنے صارفین کی برسوں کی حمایت اور اعتماد پر شکریہ ادا کیا ہے۔
بیان کے مطابق یاماہا کی پالیسی کے تحت صارفین کو مستقبل میں اسپیئر پارٹس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور اس مقصد کے لیے یاماہا موٹر پاکستان کے منظور شدہ ڈیلرز کے پاس مناسب اسٹاک موجود ہوگا۔ کمپنی نے مزید کہا کہ وارنٹی اور کسٹمر سپورٹ موجودہ اسکیم کے مطابق جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: یاماہا 125 پاکستان میں اب قسطوں پر دستیاب
یاماہا موٹر پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر شنسوکے یاماؤرا نے کہا کہ صارفین کی سہولت اور اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے کمپنی اپنی پوری کوشش جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسپیئر پارٹس پاکستان موٹرسائیکل مینوفیکچرنگ بند یاماہا موٹرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیئر پارٹس پاکستان موٹرسائیکل مینوفیکچرنگ بند یاماہا موٹرز پاکستان میں موٹر کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔