ماضی میں بھی الخلیل الحیا کی شہادت کی خبریں کب کب زیر گردش رہیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
حماس کے سینئر ترین رہنما ڈاکٹر الخلیل الحیا کی شہادت کی خبریں کئی بار مرکزی سرخیاں بنی رہی ہیں اور ہر بار غلط ثابت ہوئی ہیں۔
ان افواہوں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ الخلیل الحیا کی شہادت کا دعویٰ متعدد بار خود اسرائیلی فوج کرتی آئی ہے تاہم وہ اسرائیل کے ہر حملے میں خوش قسمتی سے محفوظ رہے ہیں۔
ذیل میں ان واقعات کی تفصیل دی جا رہی ہے جس کے بعد الخلیل الحیا کی شہادت کی خبریں زور پکڑنا شروع ہوئیں۔
◼️ 2007 کا حملہغزہ میں اسرائیل نے ایک فضائی کارروائی کے دوران الخلیل الحیا کے گھر پر بمباری کی تھی جس میں الخلیل الحیا کے دو بھائی، چار بھتیجے اور ایک کزن جاں بحق ہوگئے مگر وہ خود محفوظ رہے تھے۔ اس وقت بھی اسرائیلی میڈیا نے ان کی موت کا دعویٰ کیا تھا۔
◼️ 2008 – بیٹے کی شہادتاگلے ہی برس یعنی فروری 2008 میں اسرائیل نے ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی جس میں ان کے بیٹے حمزہ الحیا جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد بھی اسرائیل نے دعوی کیا تھا کہ الخلیل الحیا شہید ہوگئے لیکن بعد میں یہ خبر غلط ثابت ہوئی تھی۔
◼️ 2014 کی جنگ غزہغزہ کے محلے الشجاعیہ میں اسرائیل کے ایک حملے میں الخلیل الحیا ان کے بڑے بیٹے اُسامہ، بہو اور تین پوتے اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔
اس وقت بھی اسرائیلی ذرائع نے خبر دی کہ خالد الحیا کو نشانہ بنایا گیا مگر حقیقت میں وہ حملے کے وقت موجود نہیں تھے۔
◼️ 2023 – طوفان الاقصیٰ کے بعد7 اکتوبر 2023 کو حماس پر حملے کے جواب میں اسرائیل نے فضائی حملے میں الخلیل الحیا کے غزہ میں تفعہ محلے کے گھر کو نشانہ بنایا تھا۔
اُس وقت بھی اسرائیلی میڈیا نے خبر دی کہ الخلیل الحیا حملے میں شہید ہوگئے لیکن حماس نے تردید کی اور بتایا کہ وہ اس وقت بیرون ملک تھے۔
اسی برس جنوری 2024 میں بیروت میں ہونے والے ڈرون حملے میں صالح العاروری اور قسام بریگیڈز کے کمانڈرز شہید ہوگئے۔
ابتدائی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ الخلیل الحیا بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہیں بعد میں حماس نے وضاحت کی کہ الخلیل الحیا لبنان میں موجود ہی نہیں تھے۔
◼️ 2025 – قطر میں حملہ9 ستمبر 2025 کو دوحہ میں حماس قیادت پر فضائی حملہ ہوا۔ اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں الخلیل الحیا شہید ہوگئے تاہم حماس کے قریبی ذرائع نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور دیگر رہنما اجلاس کے دوران محفوظ رہے۔
اس طرح اب تک الخلیل الحیا کی شہادت کی خبریں کم از کم پانچ بار عالمی میڈیا پر نمایاں ہو چکی ہیں اور ہر بار غلط ثابت ہوتی آئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں حماس میں "ہمیشہ بچ جانے والے رہنما" (Survivor Leader) کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھی اسرائیل میں اسرائیل اسرائیل نے شہید ہوگئے حملے میں کی خبریں کی شہادت
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔