9 مئی کے بعد سے میرا پاسپورٹ بلاک ہے، افغانستان کیسے جاؤں : علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے بعد سے میرا پاسپورٹ تاحال بلاک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شراب و اسلحہ برآمدگی کیس: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری
میڈیا سے بات چیت میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کئی بار پاسپورٹ کیلیے اپلائی کیا مگر جاری نہیں کیا گیا،9 مئی کے بعد میرا پاسپورٹ بلاک ہے، افغانستان جانے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
میرا پاسپورٹ تو 9 مئی کے بعد سے بلاک ہے، لیکن خان صاحب اگر آپ کا حکم ہوا تو مجھے افغانستان جانے کے لئے کسی ویزے کی ضرورت نہیں، میں بغیر ویزے کے بھی جا سکتا ہوں۔ pic.
— Harmeet Singh (@HarmeetSinghPk) September 10, 2025
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا حکم ہو تو بغیر پاسپورٹ بھی افغانستان جاسکتا ہوں، افغان حکومت سے بات چیت کرنا صوبے کا نہیں وفاق کا کام ہے، وفاقی حکومت نے افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک مشترکہ جرگے کے قیام پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی روکنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کا افغانستان سے مذاکرات پر زور
اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل آمد کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا 3 سال سے پاسپورٹ بلاک ہے، وہ بغیر پاسپورٹ افغانستان کیسے جا سکتے ہیں۔
علی امین گنڈا پور کیسے جا سکتے ہیں ان کا تو تین سال سے پاسپورٹ ہی بلاک ہے، ایسی صورت میں وہ کیسے افغانستان جا سکتے ہیں، بیرسٹر گوہر pic.twitter.com/KhKZBbih33
— Tayyab Khan (@TayyabKhanARY) September 10, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news افغانستان پاسپورٹ بلاک پی ٹی آئی جرگہ علی امین گنڈاپور عمران خان مذاکرات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وفاقی حکومت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پاسپورٹ بلاک پی ٹی ا ئی جرگہ علی امین گنڈاپور مذاکرات وزیراعلی خیبرپختونخوا وفاقی حکومت علی امین گنڈاپور پاسپورٹ بلاک میرا پاسپورٹ افغانستان جا مئی کے بعد بلاک ہے کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔