Jasarat News:
2026-06-03@01:00:05 GMT

ڈاکٹر احمد شریف کی رحلت

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251001-03-7

 

قاسم جمال

موت ایک حقیقت ہے اور ہر فرد کو اس کا مزا چکھنا ہے۔ بے شک کامیاب وہ ہوگیا جس نے حق کو پہچان لیا اور وہ اس ڈٹ گیا۔ ڈاکٹر احمد شریف بھی ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے ہنگامہ خیز زندگی گزاری۔ زمانہ طالب علمی میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے اور چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں قوم پرستوں سے انکا خوب ٹاکرا ہوا۔ انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن ایک لمحے کے لیے بھی یہ پیچھے نہیں ہٹے ایک سال تک لاڑکانہ میں چانڈکا میڈیکل کالج کے پہلے ناظم کی ذمے داری ادا کی۔ پھر ان کا داخلہ سندھ میڈیکل کالج کراچی میں منتقل ہوگیا یہاں بھی انہیں نظامت کی ذمے داری ملی۔ کالج کا آخری الیکشن بھی ڈاکٹر احمد شریف نے لڑا کڑا مقابلہ تھا اور معمولی ووٹوں سے انہیں شکست ہوئی تھی۔ ڈاکٹر احمد شریف نے اپنے دور میں طلبہ تحریکوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 

وہ انتہائی پرجوش اور بہادر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ کبھی کسی دھمکی اور خوف سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔ ان کی بہادری کے ڈنکے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک پہنچے تھے۔ ان کے دور میں سندھ کے وزیر اعلیٰ غلام مصطفی جتوئی تھے وزیراعلیٰ ہاؤس پر طلبہ کا احتجاجی مظاہرہ تھا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کا گیٹ بند کردیا گیا۔ نوجوان طالب علم رہنما ڈاکٹر احمد شریف نے بس کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کی دیوار کے ساتھ لگا دیا اور بس کی چھت پر چڑھ کر یہ اپنے ساتھیوں سمیت وزیراعلیٰ ہاؤس کے اندر کود گئے۔ اس وقت خالد رحمن ناظم کراچی تھے اور وہ اس پرجوش نوجوان سے بڑی محبت کرتے اور انہیں ہر وقت تحمل اور صبر کے ساتھ کام کرنے کی تلقین

 

کرتے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں احمد شریف پر بڑے مقدمات قائم ہوئے لیکن انہوں نے کبھی اس کی پروا نہیں کی اور ہمیشہ آگے ہی بڑھتے رہے۔ سید منور حسن، حسین حقانی، خالد رحمن، قیصر خان، اسلم مجاہد سے قریبی تعلقات تھے۔ خالدرحمن تو ڈاکٹر احمد شریف کے آئیڈیل تھے اور آخری سانسوں تک ان سے محبتوں والا تعلق قائم رہا۔ ان دونوں کے آپس میں فیملی تعلقات تھے۔ احمد شریف کی شادی اسلامیہ کالج کے پرنسپل انصار اعظم کی صاحبزادی کے ساتھ ہوئی تھی اور یہ بے مثال جوڑا دونوں خاندانوں میں ایک مثال تھا۔ ایم بی بی ایس اور ہاؤس جاب مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر احمد شریف نے اپنی پریکٹس شروع کی۔ سینٹ جان اسپتال کورنگی چھے کے ایڈمنسٹر مقرر ہوئے اس کے علاؤہ پی آئی بی کالونی میں احمد فوڈ کی بلڈنگ میں نورالنہار میڈیکل اسپتال قائم کیا اس وقت کے میئر کراچی عبد الستار افغانی اور وہاں کے کونسلر زہیر اکرم ندیم نے اس عظیم الشان اسپتال افتتاح کیا تھا۔ اس اسپتال میں ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار جو کہ فریش ڈاکٹر بنے تھے انہوں نے میڈیکل آفیسر کی ملازمت کی۔ ڈاکٹر فاروق ستار کے ڈاکٹر احمد شریف سے خصوصی تعلقات تھے۔ میری کبھی ڈاکٹر فاروق ستار سے کسی تقریب میں ملاقات ہو جائے تو وہ ڈاکٹر احمد شریف کے بارے میں ضرور پوچھا کرتے تھے۔

 

احمد شریف نے ہمیشہ کورنگی لانڈھی کے غریب لوگوں کی خدمت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ جے ایریا کورنگی کے بعد کلو چوک پر ان کا کلینک شفٹ ہوگیا اور پھر ڈاکٹر صاحب کی مصروفیت کا ایسا دور شروع ہوا کہ سر جھکانے کی فرصت نہیں تھی۔ شام سات بجے کے بعد رات ایک بجے تک ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر رش ہوتا اور رات ایک بجے دروازے بند کر دیے جاتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب جلدی امراض کے انتہائی ماہر ڈاکٹر تھے اور پورے شہر سے مریض علاج کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ انتہائی مصروف زندگی گزارنے کے باوجود ڈاکٹر احمد شریف بندگان خدا کی خدمت کا شعار بنائے رکھا۔ ڈاکٹر صاحب تقریباً 20 سال قبل پہلوان گوٹھ کے قریب سندھ بلوچستان سوسائٹی منتقل ہوگئے۔ وہاں کے سماجی کاموں کے باعث انہیں سوسائٹی کے انتخابات میں سوسائٹی کا صدر منتخب کیا گیا اور مستقل 20 سال سے وہ اس عہدے پر فائز تھے اور آخری سانسوں تک وہ خدمت کا کام سر انجام دیتے رہے۔ انہوں نے اپنا ذاتی پیسہ سوسائٹی کی فلاح و بہبود اور یہاں کے ترقیاتی کاموں میں خرچ کیا۔ انہیں یہاں بھی بڑی مقبولیت حاصل تھی اور لوگ ان سے بڑی محبت کرتے۔ ڈاکٹر احمد شریف تو ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ ان کا ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھ کر ہی مریض ٹھیک ہو جاتے تھے۔ ڈاکٹر احمد شریف نے اپنے شعبے میں بڑی مہارت حاصل کی اور اس سلسلے میں بیرون ملک بھی یہ مختلف ٹریننگ اور کورسز کے لیے گئے۔ اللہ نے ان ہاتھوں میں بڑی شفاء عطا کی تھی۔

 

ڈاکٹر احمد شریف کا تعلق ایک متوسط طبقے کے گھرانے سے تھا وہ اپنی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر ڈاکٹر بنے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے اہل خانہ کی خدمت کے لیے وقف کی ہوئی تھی۔ وہ سب کا خیال رکھتے اور سب کے حالات سے باخبر رہتے تھے انہیں اپنے خاندان اور سسرال میں انتہائی اہمیت حاصل تھی اور ان کی شرکت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر احمد شریف اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ اپنے حلقہ احباب کا بھی خیال رکھتے۔ اللہ نے انہیں بڑا دل دیا تھا کسی کی پریشانی اور مشکلات کا علم ہوتا تو مجھے کلینک میں بلا کر اس کی مدد کرتے۔ میرے اسکول کے دو بچوں کے والد کا دو سال قبل عید والے دن انتقال ہوگیا تو ان کے پاس کفن دفن کے پیسے بھی نہیں تھے ہم نے اس کا انتظام کیا ڈاکٹر صاحب کو علم ہوا تو وہ بھی ان کے مکان کے کرایہ میں مدد کیا کرتے تھے۔ سیکڑوں لوگ اور خاندان ہیں جو آج انہیں یاد کرتے ہیں۔ ہمارے ایک مشترکہ دوست صحافی محمد انور جنہیں فالج تھا اور دس سال سے وہ صاحب فراش تھے ڈاکٹر احمد شریف قوی بھائی اور کبھی کبھار میرے ساتھ چھٹی کے دن محمد انور کے گھر جاتے گھنٹوں وہاں ہماری مجلس جمتی تھی اور وہ انتہائی خاموشی کے ساتھ ان کی مدد کیا کرتے تھے۔

 

ڈاکٹر صاحب کو مطالعہ کا بہت شوق تھا اردو ڈائجسٹ، تکبیر، زندگی، ایشیا کے وہ مستقل قاری تھے انہیں حالات حاضرہ پر بڑا عبور حاصل تھا۔ اپنی بچیوں سے بڑی محبت کرتے اور ہمیشہ ان کی ہر ضرورتوں کا خیال رکھتے ان کی اہلیہ ڈاکٹر ثروت نرگس پر آج بلاشبہ غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے۔ اللہ پاک انہیں صبر عطا فرمائے ان دونوں کی محبتیں لازوال تھی دونوں ایک دوسرے کی عزت اور احترام کرتے اور اپنے خاندان کو جوڑے رکھنے اور ان کی پریشانیوں کو حل کرنے میں دونوں میاں بیوی پیش پیش رہتے تھے۔ میری حیثیت ان کے گھر اور خاندان میں فیملی ممبر کی طرح تھی ان کے تمام بہن بھائی، بیوی بچے اور داماد تک مجھے بڑی عزت دیتے ہیں۔ ان کے دوست ڈاکٹر عرفان اشرف، ڈاکٹر عبد العلیم صدیقی ان کے انتقال پر بڑے غم زدہ تھے۔ میں نے ڈاکٹر عبد العلیم صدیقی کو ان کی قبر سے لپٹ کر روتے دیکھا ہے۔ بلاشبہ ڈاکٹر احمد شریف کو ایک آئیکون کی حیثیت حاصل تھی ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا آج ہم جو کچھ بھی ہیں وہ اپنے مرشد ڈاکٹر احمد شریف کے مرہون منت ہی ہیں۔ اللہ پاک اپنے بندوں کی خدمت کرنے والے اپنے اس عظیم بندے کا جنت میں شایان شان استقبال کریں گے اور غریبوں کے مسیحا کو اس کی تمام خطاؤں کو درگزر کرتے ہوئے اسے شہداء اور صالحین کا قرب عطا فرمائے گے۔

قاسم جمال.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر احمد شریف نے ڈاکٹر صاحب کرتے تھے انہوں نے کے ساتھ تھے اور کی خدمت تھی اور اور وہ کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم