کراچی میں آج بھی بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں آج بھی بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج کراچی، حیدرآباد، تھرپارکر، عمر کوٹ اور سانگھڑ سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں بارش ہوسکتی ہے۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں بادل برس پڑے، کہی ہلکی اور کہی تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
بھارتی گجرات سے ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم بحیرۂ عرب میں داخل ہو رہا ہے۔
گزشتہ روز بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی جس سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔
کراچی میں گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش ایئر پورٹ کےاطراف میں 33 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔
بارش کے بعد آئی آئی چندریگر روڈ، شارع فیصل اور ایم اے جناح روڈ سمیت شہر کی مرکزی شاہراہوں پر پانی جمع ہو گیا جس سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے مختلف علاقوں میں
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔