بلوچستان میں 2 آپریشنز، فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان کے 13 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
سیکیورٹی فورسز نے 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کو بلوچستان میں 2 الگ الگ آپریشنز کے دوران فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 13 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کوئٹہ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا گیا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ کوئٹہ میں اس آپریشن میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 10 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز نے خضدار میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیچ میں کیا گیا، جہاں دہشتگردوں کے ٹھکانے کو تباہ کر دیا گیا، کیچ آپریشن میں فتنہ الہندوستان کے 3 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان آپریشنز میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ہلاک دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فتنہ الہندوستان کے فورسز نے
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ